امریکہ میں ٹرمپ کے حامیوں کا احتجاج ، تشدد میں4ہلاک، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ

امریکہ میں ٹرمپ کے حامیوں کا احتجاج ، تشدد میں4ہلاک، واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ

ٹرمپ کے حامیوں کی کیپٹل ہل پر چڑھائی، بائیڈن کی فتح کی توثیق کے لیے کارروائی جاری

بعض ریاستوں کے انتخابی نتائج پر اٹھنے والے اعتراضات پر سماعت اور نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کے لیے کانگریس کا اجلاس جاری ہے۔
بعض ریاستوں کے انتخابی نتائج پر اٹھنے والے اعتراضات پر سماعت اور نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کے لیے کانگریس کا اجلاس جاری ہے۔

مظاہرین نے بدھ کو کیپٹل ہل پر اُس وقت چڑھائی کی جب کانگریس ارکان کی بڑی تعداد صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی صدر ٹرمپ پر جیت کے خلاف اعتراضات پر بحث کے لیے موجود تھی۔

مظاہرین نے عمارت میں داخل ہوتے ہی ارکان کے چیمبروں کے دروازوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ پرتشدد احتجاج کے باعث نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کے سلسلے میں جاری کارروائی کئی گھنٹوں تک تعطل کا شکار رہی۔

ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے مظاہرین کی کیپٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے کئی گھنٹوں بعد اعلان کیا کہ پولیس نے عمارت کو محفوظ بنا لیا ہے جس کے بعد ارکان کی جانب سے الیکٹورل کالج کے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

کیپٹل ہل کے اندرونی مناظر
کیپٹل ہل کے اندرونی مناظر

یاد رہے کہ کانگریس ارکان الیکٹورل ووٹوں کی گنتی مکمل کرنے کے بعد نو منتخب صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کریں گے۔

کئی نشریاتی اداروں نے کانگریس کی عمارت کے اندر ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تصاویر اور ویڈیوز چلائی ہیں جن میں مسلح پولیس اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے محکمۂ پولیس کے مطابق عمارت میں ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون کو گولی بھی لگی جو بعدازاں دم توڑ گئیں۔

ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں سے ایک شخص نے نائب صدر مائیک پینس کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے فون سے سیلفیاں بھی بنائیں۔

واشنگٹن ڈی سی کے میئر مورل باؤزر نے شہر کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر رات کا کرفیو بھی نافذ کر دیا ہے جب کہ صورتِ حالات پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈز بھی متحرک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی کے پولیس چیف رابرٹ کونٹی کا کہنا ہے کہ کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامی آرائی فسادات تھے جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے حامیوں کی کیپٹل ہل پر چڑھائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر واشنگٹن ڈی سی میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے حامیوں کی کیپٹل ہل پر چڑھائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر واشنگٹن ڈی سی میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران اُنہیں کیپٹل ہل کی جانب مارچ کرنے کی حوصلہ افزائی کی تھی اور کہا تھا کہ اُنہیں عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے حامیوں کو مضبوط ہونے کی ضرورت ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور شکست تسلیم نہیں کریں گے۔”

صدر ٹرمپ نے مظاہروں کے دوران دو ٹوئٹس بھی کیں اور مظاہرین کو واپس اپنے گھروں کو جانے کی ہدایت کی۔ تاہم صدر ٹرمپ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے رہے کہ صدارتی الیکشن چوری کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسی دوران ایک ویڈیو بھی جاری کی اور ہجوم پر زور دیا کہ وہ پرامن رہیں اور پولیس کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ “کہیں ہنگامہ آرائی نہیں ہے، یاد رکھیں ہم قانون کی عمل داری کے ساتھ ہیں اور ہم قانون کی عزت کرتے ہیں۔”

امریکہ: ’زیادہ تر لوگوں کو بندوقوں سے پیار ہے‘

دوسری جانب ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی شیئر کردہ ویڈیو کو ہٹا دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی کو بڑھاوا دیکھنے کا باعث بن سکتی ہے جب کہ ٹوئٹر انتظامیہ نے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی پر صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ 12 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا ہے۔

ادھر نو منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اس وقت ہماری جمہوریت غیر معمولی حملے کی زد میں ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو کہا کہ بطور کمانڈر ان چیف وہ ٹی وی پر خطاب کریں اور ہجوم کو واپس جانے کا کہیں۔

ہنگامہ آرائی کیوں ہوئی؟

صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ بعض ریاستوں میں جو بائیڈن کی جیت میں جعل سازی کی گئی تھی۔ تاہم ایسے کئی دعوے مختلف عدالتوں میں مسترد ہو چکے ہیں۔ اب ری پبلکن پارٹی کے بہت سے اراکین اور سینیٹرز مشترکہ اجلاس میں جو بائیڈن اور کاملا ہیرس کی فتح کی توثیق کا عمل رکوانا چاہتے ہیں۔

امریکی آئین کی 12 ویں ترمیم کے تحت کانگریس کے دونوں ایوانوں کو لازمی طور پر اجلاس کر کے تمام 50 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے الیکٹورل کالج کی گنتی کی باضابطہ تصدیق کرنا ہوتی ہے۔

ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹیوں کے سینیٹ اور ایوان میں مقررہ نمائندے ووٹوں کی گنتی کرتے ہیں جب کہ نائب صدر مشترکہ سیشن کی صدارت کرتے ہیں۔ اگر نائب صدر موجود نہ ہوں تو سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کا سب سے سینئر سینیٹر اجلاس کی صدارت کرتا ہے۔ یہ عمل تمام ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک جاری رہتا ہے۔

اس دوران اگر کسی ریاست کی گنتی سے متعلق وہاں کا سینیٹر اور ارکان اعتراض اٹھائیں تو ہر اعتراض پر دو گھنٹے تک بحث کی اجازت دی جاتی ہے۔

بشکریہ :وی او اے

Leave a Reply

Your email address will not be published.