چینی میڈیا نے مقامی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ جمعرات کی شب دور افتادہ خودمختار علاقے تبت میں طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جان سے گئے اور 46 زخمی ہو گئے۔
اے ایف پی نے چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کی رات مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 33 منٹ پر آنے والے 7.0 شدت کے زلزلے سے 300 سے زیادہ مکانات منہدم ہو گئے۔ حکام نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
سی سی ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں زلزلے کے وقت ریستورانوں کے ملازمین کو باہر بھاگتے اور سپر مارکیٹوں میں شیلفوں سے سامان گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی ارضیاتی سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق اور شمال مشرق کے درمیان ایک پہاڑی علاقے میں تھا۔ یہ مقام تبت کے دارالحکومت لہاسا سے 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کے بعد کم از کم سات مزید جھٹکے ریکارڈ کیے گئے، جن کی شدت 4.3 سے 5.2 کے درمیان تھی۔ یہ تمام جھٹکے 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آئے۔سی سی ٹی وی کے مطابق علاقے میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے تیسرے درجے کا ہنگامی ردعمل نافذ کر دیا گیا ہے۔
امدادی کاموں کے لیے 300 سے زیادہ پولیس اہلکار روانہ کیے گئے ہیں، جب کہ علاقائی فائر اینڈ ریسکیو ادارے نے متاثرہ علاقوں میں 347 اہلکار بھیجے ہیں۔سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں امدادی کارکنوں کو تباہ شدہ عمارتوں میں راستہ بناتے اور ایک شخص کو اٹھا کر لے جاتے دیکھا گیا۔ بعض عمارتوں کی چھتیں بھی گر چکی تھیں۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا نے جمعے کو بتایا کہ علاقے کے بعض حصوں میں مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ مقامی ریلوے حکام نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے علاقے سے گزرنے والی ٹرینوں کی آمدورفت روک دی ہے۔
شنہوا کے مطابق زلزلے سے چٹانیں گرنے کے باعث مقامی حکام کو قومی شاہراہ 317 کا ایک حصہ بھی بند کرنا پڑا۔ ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور صرف ہنگامی خدمات، امدادی کارروائیوں اور سرکاری معاونت کے لیے آنے والی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔
شنہوا نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں آئندہ تین دن وقفے وقفے سے برف باری کا امکان ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے لوگوں کو بچانے اور طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔





