بڈگام: جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کے ہر علاقے میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیروہ کا دورہ کرنے کا مقصد حلقے میں جاری ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانا ہے۔
دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں ہر علاقے میں ترقی لانے کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ آج بیروہ آنے کا میرا یہی مقصد تھا۔‘‘وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ علاقے میں تقریباً 26 کروڑ روپے مالیت کے ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا گیا، جبکہ کئی دیگر منصوبوں کے سنگِ بنیاد بھی رکھے گئے۔
حلقے کے ساتھ اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’2014 میں بیروہ کے ووٹروں نے مجھ پر احسان کیا تھا۔ میں نے یہاں کے لوگوں سے کہا تھا کہ میں زندگی بھر ان کا مقروض رہوں گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ نالہ سکھ ناگ پر تعمیر ہونے والا پل، جس کا مقامی لوگ طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے، مکمل ہو چکا ہے اور اسے عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں دریا کے کناروں کو خوبصورت بنانے کے منصوبوں پر بھی کام کیا جا رہا ہے، جن میں واکنگ ٹریک اور بیٹھنے کے لیے ڈیک کی تعمیر شامل ہے۔
بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ ایک نئے ریسونگ اسٹیشن کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ یہ سہولت آئندہ چار سے پانچ ماہ کے اندر فعال ہو جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سردیوں کے دوران مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے ٹرانسفارمروں کی مرمت کی ایک مقامی ورکشاپ بھی قائم کی جا رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا، ’’ان شاء اللہ، ہم اس ورکشاپ کو جلد از جلد مکمل کریں گے۔‘‘مجوزہ ہائی وے کے راستے اور اس کے مقامی کاروبار پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے یہ معاملہ ہائی وے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’لوگوں کے مطالبات کو سمجھتے ہوئے ہم نے یہ معاملہ ہائی وے حکام کے ساتھ اٹھایا ہے۔ اب ہم کوشش کریں گے کہ یہاں کے لوگوں کے مطالبات پورے کیے جائیں۔‘‘اسٹیڈیم کی تعمیر کے مطالبے پر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پہلے اس کے لیے ایک مناسب جگہ کی نشاندہی کی جائے گی، جس کے بعد محکمۂ کھیل اس کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات کرے گا۔
(کے این او)





