بدھ, ستمبر 23, 2026
25.6 C
Srinagar

ترقی پذیر ممالک کو فیصلہ ساز اداروں میں جگہ دی جانی چاہیے: جے شنکر

نئی دہلی،: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک عالمی بحرانوں کا سب سے زیادہ سامنا کررہے ہیں، لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں وہ سب سے پیچھے ہیں۔
مسٹر جے شنکر نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے الگ ’’ہم خیال ترقی پذیر ممالک اور دوست ممالک کے اعلیٰ سطحی وزارتی اجلاس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کا متحد ہونا انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے رسد کے سلسلوں، مالیات اور رابطے کے نظام میں رکاوٹوں کو قبول نہ کرنے، توانائی اور غذائی تحفظ یقینی بنانے، منصفانہ تجارتی نظام، بحری سلامتی اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی نئی عدم مساوات کو روکنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو اپنے مستقبل سے متعلق معاملات پر فیصلہ کرنے والے اداروں کا حصہ ہونا چاہیے۔
مسٹر جے شنکر نے ترقی پذیر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے، مصنوعی ذہانت کے مقامی طور پر تیار کردہ آلات اور طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور بین الاقوامی شمسی اتحاد اور آفات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے کے اتحاد جیسے پلیٹ فارموں کے ذریعے موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کی تجویز دی۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور کثیر ملکی نظام میں اصلاحات کو بھی ضروری قرار دیا۔
انہوں نے 5 تجاویز بھی پیش کیں۔ پہلی، موجودہ پلیٹ فارموں کا استعمال کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کے خدشات کو ترجیح کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے، تاکہ انہیں نظر انداز نہ کیا جائے۔
دوسری، عالمی بحرانوں کے اثرات سے بچاؤ کے لیے ترقی پذیر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانا ضروری ہے۔ تیسری، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی پذیر ممالک کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ آلات اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کو مرکز میں رکھ کر کام کرے۔
چوتھی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف عالمی شمال پر انحصار کرنے کے بجائے بین الاقوامی شمسی اتحاد جیسے پلیٹ فارموں کے ذریعے مزید کام کرنا چاہیے، اور پانچویں، ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات پوری کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور پورے کثیر ملکی نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
یو این آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img