بدھ, ستمبر 16, 2026
26.1 C
Srinagar

اسمبلی اجلاس سے قبل سجاد غنی لون کی ریزرویشن پالیسی پر حکومت پر سخت تنقید

سرینگر،: آئندہ قانون ساز اسمبلی اجلاس سے قبل پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے حالیہ ’جے کے اے ایس اور جموں و کشمیر اکاؤنٹس (گزٹیڈ) افسران‘ کی تقرریوں کے معاملے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عمل کو وادیٔ کشمیر کے خلاف ’’بھرتی میں امتیازی سلوک‘‘ قرار دیا۔

 ایکس پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں لون نے کہا کہ منتخب کیے گئے 55 جے کے اے ایس اور جموں و کشمیر اکاؤنٹس (گزٹیڈ) افسران میں سے صرف 10 کا تعلق وادیٔ کشمیر سے ہے۔سجاد لون نے کہا، ’’56 فیصد آبادی کے تناسب کے مقابلے میں کشمیر کے باشندوں کو صرف 18 فیصد ملازمتیں ملی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کو تقرری کے احکامات تقسیم کرنے سے خود کو الگ رکھنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا، ’’اتفاق سے تقرری کے احکامات وزیرِ اعلیٰ صاحب نے دیے۔ بہتر ہوتا کہ وہ اس سے خود کو دور رکھتے۔‘‘

سجاد لون نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ریزرویشن نظام وادی کے خلاف بھرتیوں میں امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ وادیٔ کشمیر کے باشندوں کے خلاف ظلم و ستم ہے۔انہیں بااختیار ہونے سے روکنے اور حاشیے پر دھکیلنے کی ایک حکمتِ عملی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ریزرویشن سے متعلق کابینہ کی سفارش سے بھی صورتحال میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ سجاد لون نے کہا، ’’اگر منتخب حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کو بھیجی گئی نام نہاد فائل منظور بھی ہو جاتی ہے تو کشمیر کے خطے میں 56 فیصد بمقابلہ 18 فیصد بھرتی کا یہ تناسب تبدیل نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ یہ 19 فیصد تک پہنچے گا، جبکہ آبادی کا تناسب 56 فیصد ہے۔‘‘

پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ مناسب قانونی و پارلیمانی ذرائع کے ذریعے اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’میری خواہش اور امید ہے کہ ہم سب، جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر، مل کر اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اور جو حقیقت ہے اسے حقیقت کے طور پر بیان کریں گے۔واضح اور غیر مبہم الفاظ میں یہ کہیں گے کہ موجودہ ریزرویشن نظام وادیٔ کشمیر کے باشندوں کو بااختیار ہونے سے روکنے اور انہیں حاشیے پر دھکیلنے کا ایک طریقۂ کار ہے۔‘‘

Popular Categories

spot_imgspot_img