ہفتہ, اگست 29, 2026
24.6 C
Srinagar

کشمیر کی ثقافتی تاریخ کا رنگا رنگ جائزہ: ماہرین نے ورثے، ماحولیات اور ہم آہنگ روایات کو اجاگر کیا

شوکت ساحل
پٹنکشیر ہسٹری فائونڈیشن اور ایس ایس ایم کالج پری ہاس پورہ، پٹن کے باہمی اشتراک سے کالج کے سیمینار ہال میں(A Kaleidoscopic View of Kashmir’s Cultural History) یعنی” کشمیر کی ثقافتی تاریخ کا رنگا رنگ جائزہ“ کے عنوان سے ایک روزہ سیمینار کا اہتمام کیا گیا، جس میں کالج کے طلبہ، اساتذہ، محققین، دانشوروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں کشمیر کی تاریخ، مشترکہ تہذیبی روایات، ماحولیات، موسیقی اور ثقافتی ورثے پر لیکچرز اور تبادلہ خیال کیا گیا ۔اس موقع پر مقررین نے کشمیر کی تاریخ، ثقافتی ورثے، ہم آہنگ اور مشترکہ تہذیبی و ثقافتی روایات، ماحولیات، آبی ذخائر، روایتی موسیقی اور نوجوانوں کے کردار سمیت مختلف اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔سیمینار سے خطاب کرنے والے مقررین میں ڈاکٹر سمیع اللہ بٹ، ڈاکٹر عبدالرشید لون، ڈاکٹر ہارون رشید، مہمان ِخصوصی پروفیسر فاروق فیاض، مزمل قریشی اور ڈاکٹر مظفر بٹ شامل تھے۔
کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز سے وابستہ ڈاکٹر سمیع اللہ بٹ نے کشمیر میں جھیلوں کے تحفظ اور انتظام سے متعلق سی اے جی آڈٹ رپورٹ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کشمیر کے آبی ذخائر خصوصاً جھیلوں کے سکڑتے ہوئے رقبے اور ماحولیاتی دباو پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبی وسائل کے تحفظ سے متعلق تحقیق اور ماہرین کی سفارشات پر موثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ڈاکٹر عبدالرشید لون نے(Decoding the Past — Written, Material & Oral Evidence)کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے ماضی کو سمجھنے کے لیے تحریری، مادی اور زبانی شواہد کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف تاریخی ذرائع کا تقابلی مطالعہ ہی خطے کی تاریخ کی ایک جامع اور مستند تصویر سامنے لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
آن لائن سیشن میں ڈاکٹر ہارون رشید نے کشمیر کی ہم آہنگ اور تکثیری روایات پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تہذیبی شناخت مختلف مذہبی، سماجی اور ثقافتی روایات کے باہمی میل جول سے تشکیل پائی ہے، جس کے تحفظ اور فروغ کے لیے نئی نسل کو اپنی مشترکہ ثقافتی بنیادوں سے روشناس کرانا ضروری ہے۔پروفیسر فاروق فیاض:مہمان ِ خصوصی پروفیسر فاروق فیاض نے اپنے صدارتی خطاب میں کشمیر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی مقامات، روایات اور ثقافتی شناخت کی حفاظت صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ طلبہ اور نوجوانوں کو بھی اس عمل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
ڈاکٹر مزمل بٹ نے کشمیر کے روایتی موسیقی کے آلات کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ روایتی ساز کشمیر کے تہذیبی ورثے کا اہم حصہ ہیں اور ان کے تحفظ، تحقیق اور نئی نسل تک منتقلی کے لیے سنجیدہ کوششیں ضروری ہیں۔نیرجا متو:ماہرِ تعلیم اور گورنمنٹ کالج فار ویمن، سری نگر کی سابق پرنسپل نیرجا متو نے کہا کہ وہ اپنی تصنیف و ترجمہ کے ذریعے کشمیری تہذیب میں خواتین کے کردار اور خدمات کو اجاگر کر رہی ہیں اور یہ سلسلہ وہ تاحیات جاری رکھیں گی۔لائف بلوم فائونڈیشن سے وابستہ مزمل قریشی نے ماحول کے تحفظ میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں میں شعور، ذمہ داری اور عملی شرکت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیمینار کے ایک اہم سیشن میں(Way Forward — Youth as Ambassadors of Kashmiri Heritage & Culture) کے تحت نوجوانوں کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ نوجوان تحقیق، تعلیمی سرگرمیوں، ثقافتی پروگراموں اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے کشمیر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو مو¿ثر انداز میں اجاگر کر سکتے ہیں۔سیمینار کے اختتامی مرحلے میں طلبہ نے روایتی کشمیری ملبوسات کی نمائش پیش کی، جس کے ذریعے کشمیر کی ثقافتی رنگا رنگی اور قدیم روایات کو اجاگر کیا گیا۔ نمائش ،شرکاءکے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث بنی اور طلبہ نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب کے دوران کشمیر کی تاریخ اور ثقافتی ورثے سے متعلق ورچوئل واک تھرو بھی پیش کیا گیا، جبکہ شرکاءنے مختلف موضوعات پر ہونے والی گفتگو میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ کشمیر کے تاریخی، ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے کے تحفظ کے لیے تعلیمی اداروں، ماہرین، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے درمیان مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔آخر میں کشیر ہسٹری فائونڈیشن کی ڈائریکٹر سنندا گنجو نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور تمام مقررین، مہمانوں، طلبہ، اساتذہ اور منتظمین کا سیمینار میں شرکت اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔کالج کی شریک چیئر پرسن دل افروز قاضی نے استقبالیہ خطبہ پیش کیا ۔
تقریب کے اختتام پر پروگرام میں شرکت کرنے والے طلبہ کو اسناد سے نوازا گیا۔ منتظمین نے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوان نسل کو اپنی تاریخ، ثقافت اور تہذیبی ورثے کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img