سری نگر، 11 اگست: نیشنل کانفرنس کے سابق رکن پارلیمنٹ اور اُس وقت این سی کے الیکشن انچارج عبدالرشید کابلی نے 1987 کے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر انتخابات میں دھاندلی ہوتے دیکھی اور نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ مطلوبہ ووٹ حاصل نہ ہونے کے باوجود انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔
نیوز ایجنسی کشمیر نیوز ٹرسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو انٹرویو میں کابلی نے الزام عائد کیا کہ دھاندلی ووٹوں کی گنتی کے مرحلے پر کی گئی۔ ان کے مطابق تمام کاؤنٹنگ افسران کو اُس وقت کے این سی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے سامنے جمع کیا گیا اور انہیں ہدایت دی گئی کہ حقیقی طور پر حاصل کیے گئے ووٹوں سے قطع نظر نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کو کامیاب قرار دیا جائے۔
کابلی نے امیرا کدل حلقے کی مثال دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ این سی کے سرکردہ رہنما غلام محی الدین شاہ، مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے امیدوار مولوی محمد یوسف، جو اب سید صلاح الدین کے نام سے جانے جاتے ہیں، سے پیچھے تھے، اس کے باوجود انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔
کابلی نے کہا، ’’میں نیشنل کانفرنس کے انتخابات کا انچارج تھا اور اس بات کا گواہ ہوں کہ انتخابات میں کس طرح دھاندلی کی گئی۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب غلام محی الدین شاہ کو مسلم یونائیٹڈ فرنٹ کے امیدوار سے پیچھے ہونے کے باوجود فاتح قرار دیا گیا تو انہوں نے اعتراض کیا، تاہم اُس وقت کے این سی جنرل سیکریٹری شیخ نذیر نے انہیں بتایا کہ پارٹی کی ’’بنیاد بچانے‘‘ کے لیے یہ عمل انجام دینا ضروری ہے۔
کابلی نے الزام عائد کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک حلقے تک محدود نہیں تھا بلکہ کاؤنٹنگ افسران کو نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کے حوالے سے عمومی ہدایات دی گئی تھیں۔
ان کے مطابق 1987 کا الیکشن محض ایک متنازع انتخاب نہیں تھا بلکہ ایسا واقعہ تھا جس کے اثرات انتخابی عمل سے کہیں آگے تک گئے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک دھاندلی زدہ الیکشن تھا جس نے کشمیر کو تباہ کر دیا۔‘‘کابلی نے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی اقتدار برقرار رکھنے کی خواہش سے مغلوب تھے اور اپنی کرسی کی خاطر عوام کے مفادات کو نظرانداز کیا گیا۔
کابلی نے الزام لگایا، ’’وہ اقتدار کے بھوکے تھے، انہیں عوام کی ذرہ بھر فکر نہیں تھی اور وہ اپنی کرسی سے چمٹے رہے۔‘‘سابق این سی رکن پارلیمنٹ نے کشمیری علیحدگی پسند رہنما مقبول بٹ کی پھانسی کے حوالے سے بھی ایک سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومتِ ہند انہیں رہا کرنے پر آمادہ تھی، تاہم فاروق عبداللہ سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔
کابلی نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے انہوں نے ذاتی طور پر حکومتِ ہند کو مقبول بٹ کی رہائی کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم ان کے الزام کے مطابق عبداللہ نے اس کوشش کی مخالفت کی۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ فاروق عبداللہ نے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو دہلی بھیجا اور ہدایت دی کہ مقبول بٹ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ان کی میت کو تہاڑ جیل کے اندر ہی دفن کیا جائے۔
کابلی نے دعویٰ کیا کہ بیگم عبداللہ نے بھی فاروق عبداللہ کو اس اقدام سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ استعفیٰ دے دیں تو اس کے برعکس انہیں عوام میں زیادہ ہمدردی اور حمایت حاصل ہوگی۔
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ 1987 کے انتخابات اور اس کے بعد کیے گئے سیاسی فیصلوں سے متعلق واقعات نے کشمیر کی سیاسی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
[کے این ٹی]





