منگل, جولائی 14, 2026
28.9 C
Srinagar

آغا روح اللہ نے نئی سیاسی پارٹی بنانے کی خبروں کو مسترد کر دیا، نیشنل کانفرنس کے جنتر منتر احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے

بڈگام:نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کے روز نئی سیاسی جماعت بنانے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا ان سے زیادہ اس پیش رفت کا خواہاں ہے۔

بڈگام میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک کوئی سیاسی جماعت تشکیل نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ نئی جماعت بنانے کی خواہش مجھ سے زیادہ میڈیا کو ہے۔ اگر آپ نئی جماعت بنانا چاہتے ہیں تو بنائیں، پھر میں دیکھوں گا کہ وہ اچھی جماعت ہے یا نہیں اور اس میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔”

نیشنل کانفرنس کی جانب سے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے بارے میں آغا روح اللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کا مینڈیٹ دفعہ 370 کی بحالی کے لیے تھا، نہ کہ صرف ریاستی درجے کی بحالی کے لیے۔

انہوں نے کہا، "میں پہلے ہی واضح کر چکا ہوں کہ میں اس احتجاج میں شامل نہیں ہوں گا۔ ہماری ذمہ داری دفعہ 370 کے لیے جدوجہد کرنا ہے کیونکہ یہ ہماری شناخت اور وقار سے جڑی ہوئی ہے۔ لوگوں نے ہمیں دفعہ 370 کے لیے مینڈیٹ دیا تھا، صرف ریاستی درجے کے لیے نہیں۔”

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی بحث کو صرف ریاستی درجے تک محدود کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایجنڈے کے مطابق ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ بی جے پی کا ایجنڈا ہے کہ ہم باقی تمام چیزیں بھول جائیں اور صرف ریاستی درجے کا مطالبہ کریں۔ گزشتہ 70 برسوں نے دکھایا ہے کہ ہم سے جو کچھ چھینا گیا، وہ کبھی واپس نہیں کیا گیا۔ اگر ہم تاریخ سے سبق حاصل کرنے میں ناکام رہے تو یہ اچھا نہیں ہوگا۔”

نیشنل کانفرنس کے اندر مبینہ ہارس ٹریڈنگ اور بی جے پی کی جانب سے پارٹی میں توڑ پھوڑ کی کوششوں سے متعلق سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے کہا کہ جمہوریت میں ہارس ٹریڈنگ کی کوئی جگہ نہیں، چاہے اس میں کوئی بھی سیاسی جماعت ملوث ہو۔

انہوں نے کہا، "جمہوریت میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والا کوئی بھی شخص قابلِ جواز نہیں ہے۔ میں ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہوں، چاہے اس میں کوئی بھی جماعت شامل ہو۔ بی جے پی نے اس عمل کو معمول بنا دیا ہے، جہاں لوگوں کے مینڈیٹ کو ایسے طریقوں سے نقصان پہنچایا جاتا ہے، اور یہ جمہوریت کے لیے خطرناک ہے۔”

(کے این او)

Popular Categories

spot_imgspot_img