سری نگر،: وادی کشمیر کی مشہور جھیلوں سمیت دیگر آبی ذخائر میں زہریلی بھاری دھاتوں کی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، اور یہ آلودگی اب یہاں پیدا ہونے والے سنگھاڑوں میں بھی سرایت کر رہی ہے،
جو کہ مقامی آبادی کی غذا کا ایک اہم حصہ ہیں۔
بین الاقوامی سائنسی جریدے "سائنسی رپورٹس” میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے کشمیر کے چار بڑے آبی ذخائر سے حاصل کیے جانے والے سنگھاڑوں (مقامی نام: گور) میں بھاری دھاتوں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تحقیق میں جھیل ڈل کو سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین نے اپنے مطالعے کے دوران جھیل ڈل، ہوکرسر ویٹ لینڈ، مانسبل جھیل اور وولر جھیل سے پانی، رسوب (تلچھٹ) اور سنگھاڑے کے پودوں کے مختلف حصوں کے نمونے جمع کیے۔ تحقیق کے دوران کیڈمیم، کرومیم، تانبا، کوبالٹ، آئرن، مینگنیز، نکل اور زنک سمیت آٹھ بھاری دھاتوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، سنگھاڑے کے پودے کی جڑوں میں بھاری دھاتوں کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پودے یہ آلودگی جھیل کی تہہ میں موجود زہریلے مواد سے جذب کرتے ہیں۔
جڑوں میں آئرن کی مقدار سب سے زیادہ 322.50 ملی گرام فی کلوگرام اور زنک کی مقدار 82.45 ملی گرام فی کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔اگرچہ سنگھاڑے کے پھل (کھانے والے حصے) میں جڑوں کے مقابلے میں آلودگی کم تھی، لیکن جھیل ڈل سے حاصل کردہ پھلوں میں کیڈمیئم کی مقدار 0.11 ملی گرام فی کلوگرام تک پائی گئی۔ یہ مقدار عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ محفوظ حد (0.02 ملی گرام فی کلوگرام) سے تقریباً 5.5 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین نے بین الاقوامی معیارات کے تحت صحت کے خطرات کا اندازہ لگاتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ جھیل ڈل سے نکالے گئے سنگھاڑوں کا مستقل استعمال انسانی صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔سائنسدانوں نے آبی ذخائر کی اس ابتر صورتحال کا ذمہ دار انسانی سرگرمیوں کو ٹھہرایا ہے۔
سائنس دانوں نے اس آلودگی کی بنیادی وجوہات میں بغیر صفائی کے چھوڑا جانے والا گھریلو سیوریج، زرعی بہاؤ، شہری کچرا، ہاؤس بوٹس کا فضلہ اور دیگر انسانی سرگرمیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سری نگر میں روزانہ تقریباً 193 ملین لیٹر گندا پانی پیدا ہوتا ہے، جس میں سے 140 ملین لیٹر پانی بغیر کسی فلٹریشن یا ٹریٹمنٹ کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جھیل ڈل میں بہا دیا جاتا ہے۔





