پائیداری کے بغیر سیاحت کو "مکمل تباہی” قرار دیا، ماسٹر پلان پر عمل درآمد، شراکت داروں سے مشاورت اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر زور
فردوس وانی
سرینگر:وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کو سیاحت کے شعبے کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے بتدریج تعداد پر مبنی (Volume-based) سیاحت سے معیار پر مبنی (Value-based) سیاحت کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پائیداری کے بغیر سیاحت "مکمل تباہی” کے مترادف ہے۔
شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر سرینگر میں پائیدار سیاحت سے متعلق منعقدہ کنکلیو سے خطاب کرتے ہوئے، عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ محض زیادہ سیاحوں کی آمد پر انحصار کرنے والی منزل بننا چاہتا ہے یا پھر معیار پر مبنی سیاحتی معیشت کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا، "کیا ہم اس لیے آمدنی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ 100 سیاحوں سے ایک ایک روپیہ وصول کریں، یا اس لیے کہ ایک سیاح سے 100 روپے وصول کریں؟ اسی سوال کا جواب ہمارے ماسٹر پلان اور سیاحتی پالیسی کی بنیاد ہونا چاہیے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر نے گزشتہ کئی دہائیوں تک حالات کے باعث تعداد پر مبنی سیاحت پر انحصار کیا، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ صرف سیاحوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے پائیداری پر توجہ مرکوز کی جائے۔
گزشتہ سال پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے کشمیر کے سیاحتی نظام کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے کہا، "ایک ہی واقعہ پیش آیا اور سب کچھ ختم ہو گیا، اسی لیے اب ہمیں پائیدار سیاحت کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔”
عمر عبداللہ نے ٹریفک نظم و نسق، پارکنگ، کچرے کی مناسب تلفی، پانی کی قلت اور سیاحتی مقامات پر بے ہنگم تعمیرات جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی پر زور دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کے بغیر پالیسیاں نافذ نہیں کی جانی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ طاق-جفت (Odd-Even) ٹریفک منصوبہ بھی مناسب مشاورت کے بغیر نافذ کیے جانے کی وجہ سے عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنا۔
وزیر اعلیٰ نے کچرے کے مؤثر انتظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ اور ڈل جھیل جیسے سیاحتی مقامات کو اپنے گھروں کی طرح صاف ستھرا اور محفوظ رکھنے کی ذمہ داری نبھائیں۔
انہوں نے بڑھتی ہوئی آبی قلت اور تعمیراتی ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماسٹر پلان پر منصفانہ اور یکساں انداز میں عمل درآمد نہ ہو تو ان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ انہوں نے مقامی آبادی سے مشاورت کے ذریعے سیاحتی پالیسیاں تشکیل دینے اور ہر سیاحتی مقام کی برداشت کی گنجائش (Carrying Capacity) کا تعین کرنے کی بھی وکالت کی تاکہ ماحولیاتی نقصان سے بچا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاحت کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا قدرتی حسن ہے، اس لیے ماحولیات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا، "ہم نہ لاس ویگاس ہیں اور نہ ہی دبئی۔ ہمارے پاس اگر کچھ ہے تو وہ ہمارا قدرتی حسن ہے، اور اسی کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔”
عمر عبداللہ نے مستقبل میں پائیدار سیاحت کے اقدامات کے تحت ہمسایہ پہاڑی ریاستوں کی طرز پر غیر مقامی سیاحتی گاڑیوں پر داخلہ فیس عائد کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے معیار پر مبنی سیاحت کی جانب تدریجی منتقلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایسے حالات پیدا کرنے ہوں گے جن سے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ بھی ہو اور سیاحت ماحول دوست اور پائیدار بھی رہے۔
انہوں نے کہا، "ہمیں پائیداری، منصوبہ بند سیاحت اور ایسی پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا جو ہماری تاریخ، ثقافت اور مستقبل کی امنگوں کی عکاسی کریں۔ یہی واحد راستہ ہے جس سے جموں و کشمیر میں سیاحت کو مستقل اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔”





