سوئٹزرلینڈ کے وفاقی محکمہ برائے اُمور خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برگن شٹاخ میں اس حوالے سے تیاری کی گئی ہے تاہم فی الحال اس سے زیادہ معلومات فراہم نہیں کی جا سکتی ہیں۔
اس سے پہلے وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی تھی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے جمعے کو سوئٹزرلینڈ نہیں جائیں گے تاہم اُن کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان مزید تفصیلات ملنے پر ہی کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے جمعرات کی شام صحافیوں کو بتایا کہ جیسا کہ ’نائب صدر جے ڈی وینس نے اپنی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ تکنیکی مذاکرات کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی اور امریکی وفد کو جلد از جلد روانہ ہونے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاہم ان مذاکرات کے آپریشنل اور لاجسٹک معاملات کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔ لہذا انھی وجوہات کی بنا پر نائب صدر جمعے کو سوئٹزر لینڈ نہیں جا سکیں گے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل جمعرات کے روز ہی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے تیار ہیں لیکن ابھی تک صحیح تفصیلات معلوم نہیں اور یہ دورہ ہفتے یا اتوار کو ہو سکتا ہے۔
’امریکی ہتھیاروں نے اسرائیل کو بچایا‘: جے ڈی وینس کی اسرائیلی وزرا پر تنقید اور ’احسانات‘ کا ذکر

ایران جنگ کے معاملے پر امریکی صدر اور پھر امریکی نائب صدر کی اسرائیل پر تنقید کو بعض ماہرین دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج قرار دے رہے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور جنگ بندی تک دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی تھی، تاہم اپریل میں جنگ بندی اور اس دوران مذاکرات اور اب 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر اسرائیل نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک: لبنانی میڈیا
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع قصبوں شرقیا، حروف، کفر رمان، کفر جوز اور کفر صیر پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی لبنانی میڈیا کے مطابق آج صبح کے ابتدائی اوقات سے نباطیہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں پر اسرائیلی فوج توپ خانے کی مدد سے بمباری کر رہی ہے۔
یہ حملے ایران-امریکہ مفاہمتی یادداشت کے پہلے پیراگراف میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کی ضمانت کے باوجود جاری ہیں۔
لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے روکنے کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا میں واحد سربراہ مملکت ہیں جو اس وقت ریاست اسرائیل کے ہمدرد اور حامی ہیں، اور وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے رہنما بھی ہیں۔ وینس کا کہنا ہے کہ ’اگر میں اسرائیلی کابینہ کا رکن ہوتا تو شاید میں پوری دنیا میں اپنے واحد طاقتور اتحادی پر زبانی حملے نہ کرتا۔‘
اسرائیل کے داخلی سلامتی کے اتامیر بن گویر نے ایک گھنٹہ قبل مسٹر وینس کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ ’جو کوئی ہماری حمایت کرے گا وہ فائدہ اٹھائے گا اور جو ہم سے منہ موڑے گا وہ نقصان اٹھائے گا۔ لہٰذا ہمیں دھمکی نہ دیں۔‘
اس سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایک بیان میں میں اس بات پر زور دیا تھا کہ جب تک اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات اس کا تقاضا کرتی ہیں تب تک اسرائیلی فوج جنوبی لبنان اور سکیورٹی بفر زون سے اس وقت تک نہیں نکلیں گی۔
معاہدہ شکنی کی صورت میں ایران تباہ کن جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا: باقر قالیباف

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی پارلیمان کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک بیان کے جواب میں کہا ہے کہ وہ رہبر اعلیٰ کے ’حکم کے پابند‘ ہیں۔
قالیباف کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ نے انھیں اس بات کی ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاہدے کی شرائط و دفعات پر عمل درآمد ہو۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز ایرانی رہبرِ اعلیٰ سے منسوب ایک پیغام نشر ہوا تھا جس کے مطابق انھوں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی تھی۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ صدر مسعود پزشکیان نے انھیں بتایا ہے کہ اگر امریکہ حد سے زیادہ مطالبات کرے گا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔
قالیباف کا کہنا ہے کہ ’دوسرے فریق کی جانب سے ’معاہدہ شکنی اور حد سے زیادہ مطالبات کی صورت میں‘ ایران تباہ کن جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔
انھوں نے امریکہ کے ساتھ جنگ میں فتح کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’اگر وہ دوبارہ اسی راستے پر چلنا چاہتے ہیں تو انھیں اس سے زیادہ سخت طمانچہ پڑے گا۔‘




