امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ایران نے امریکہ کی شرائط ماننے سے انکار کیا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکا۔ 21 گھنٹے طویل اِن مذاکرات کے دوران کئی ادوار ہوئے جس دوران تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا گیا تھا۔
ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے: امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ ’حتمی اور بہترین پیشکش‘ سامنے رکھنے کے بعد واپس جا رہے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت میں 21 گھنٹے کے مذاکرات کے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا ’ہم یہاں سے ایک انتہائی سادہ تجویز، افہام و تفہیم کے ایک طریقہ کار کے ساتھ جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘
وینس نے مزید کہا کہ بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔ایران کا اصرار ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ساتھ ساتھ گذشتہ سال بھی ایران کی حساس تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
وینس نے کہا ’سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایک واضح عزم دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ ایسے ذرائع تلاش کریں گے جو انہیں تیزی سے جوہری ہتھیار کے حصول کے قابل بنائیں۔
’سادہ سا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایرانیوں کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا کوئی بنیادی عزم دیکھتے ہیں۔ صرف ابھی نہیں اور نہ ہی آج سے دو سال بعد، بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر؟
’ہم نے ابھی تک ایسا نہیں دیکھا۔ ہمیں امید ہے کہ ہم یہ دیکھیں گے۔‘اپنے مختصر ریمارکس میں وینس نے ایک اور اہم مسئلے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، پر اختلاف کو نمایاں نہیں کیا، یہ وہ تنگ آبی راستہ ہے جہاں سے دنیا کے کل تیل کے پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے ہفتے کو واشنگٹن میں کہا تھا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں — مذاکرات میں مفاہمت پسند رہے ہیں۔
’میرا خیال ہے کہ ہم کافی لچک دار تھے۔ ہم نے کافی مفاہمت کا مظاہرہ کیا۔ صدر نے ہم سے کہا تھا کہ آپ کو نیک نیتی کے ساتھ یہاں آنا چاہیے اور معاہدہ طے پانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔‘’ہم نے ایسا ہی کیا اور، بدقسمتی سے، ہم کوئی پیش رفت نہیں کر سکے۔‘
سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر: ایران
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کے لیے ایک مصروف اور طویل دن تھا جس کے دوران ’دونوں فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق مخالف کی سنجیدگی اور نیک نیتی، حد سے متجاوز مطالبات اور غیر قانونی درخواستوں سے گریز اور ایران کے جائز حقوق و مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے۔‘




