جمعہ, اگست 28, 2026
25.6 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں رشوت ستانی کے بڑھتے کیسز بے نقاب، ٹریپ کارروائیوں میں پٹواری سرفہرست

سری نگر: جموں و کشمیر میں انسداد بدعنوانی کی کارروائیوں کے دوران رشوت ستانی کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ریونیو محکمہ کے اہلکار، خصوصاً پٹواری، نمایاں طور پر ملوث پائے گئے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی جامع اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کے مطابق اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے مختلف اضلاع میں کئی ٹریپ کارروائیاں کرتے ہوئے چارج شیٹس دائر کی ہیں، جن میں اکثر پٹواری زمین سے متعلق خدمات کے عوض رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عوام کی جانب سے اراضی کے نظام میں بدعنوانی کے حوالے سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں، جو خطے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سرکاری خدمات میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ وقتاً فوقتاً کیسز کی تفصیلات جاری کی جاتی ہیں، لیکن ایسا کوئی سرکاری ڈیٹا موجود نہیں جو یہ واضح کرے کہ کتنے پٹواری، تحصیلدار یا نائب تحصیلداروں کے خلاف رشوت کے مقدمات درج یا چارج شیٹ کیے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اے سی بی کا ریکارڈ کیس کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے اور عہدوں کے حساب سے مجموعی اعداد و شمار مرتب نہیں کیے جاتے۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “ہر کیس کو علیحدہ طور پر دستاویزی شکل دی جاتی ہے، کسی مخصوص کیٹیگری کے تحت مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔”

دستیاب معلومات کے مطابق زیادہ تر ٹریپ کیسز میں پٹواری ملوث پائے گئے ہیں، جو انتقال اراضی، ریونیو ریکارڈ کی نقول کے اجرا اور تصدیق جیسے امور کے لیے مبینہ طور پر رشوت لیتے ہوئے گرفتار کیے گئے۔

حکام کے مطابق تحصیلدار اور نائب تحصیلدار نسبتاً کم ٹریپ کارروائیوں میں پکڑے جاتے ہیں، تاہم وہ بڑے مالی معاملات یا منظم بدعنوانی کے کیسز میں چارج شیٹس میں شامل ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان کی ایک وجہ ریونیو اہلکاروں کا عوام سے براہِ راست رابطہ ہے، کیونکہ پٹواری زمین سے متعلق امور میں پہلا رابطہ ہوتے ہیں، جس سے شکایات اور کارروائیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مختلف اضلاع کے عوام نے بھی معمول کی سرکاری خدمات کے لیے غیر رسمی ادائیگیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جنوبی کشمیر کے ایک رہائشی نے کہا کہ “ایسا نظام ہونا چاہیے جہاں تمام عمل شفاف اور آن لائن ہو تاکہ بدعنوانی میں کمی آئے۔”

جامع اعداد و شمار کی عدم دستیابی نے شفافیت اور پالیسی سازی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں شکایات اور شواہد کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر وقتاً فوقتاً عہدہ وار اعداد و شمار جاری کیے جائیں تو اس سے احتساب اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

سالانہ رجحانات سے اراضی نظام میں بدعنوانی کی مسلسل شکایات کا انکشاف، پٹواریوں کے خلاف کیسز غالب

 اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کے گزشتہ چند برسوں کے کیسز کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ریونیو محکمہ کے اہلکاروں کے خلاف رشوت ستانی کے الزامات ایک مسلسل رجحان کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جن میں پٹواریوں کے خلاف ٹریپ کیسز کی اکثریت سامنے آئی ہے جبکہ اعلیٰ سطح کے افسران نسبتاً کم شامل پائے گئے۔

کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کے مطابق سالانہ بنیادوں پر کیسز اور چارج شیٹس کے تجزیے سے اراضی کے نظام میں بدعنوانی سے متعلق شکایات کے تسلسل کی نشاندہی ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 اور 2020 کے دوران مختلف اضلاع میں متعدد پٹواری رشوت ستانی کے الزامات میں پکڑے گئے، جہاں زیادہ تر کیسز میں انتقال اراضی اور ریونیو دستاویزات کے اجرا کے لیے معمولی رقم طلب کرنے کی شکایات سامنے آئیں۔ اسی عرصے میں فیلڈ سطح کے اہلکاروں کے خلاف ٹریپ کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

سال 2021 میں بھی اسی نوعیت کے کیسز جاری رہے، تاہم ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈز سے متعلق شکایات میں اضافہ ہوا۔ بعض کیسز میں نائب تحصیلدار جیسے نگران افسران کے بالواسطہ کردار کی بھی نشاندہی کی گئی۔

2022 میں اے سی بی نے کارروائیاں مزید تیز کیں اور متعدد ٹریپ آپریشن کیے گئے۔ اس دوران بھی پٹواری سب سے زیادہ زیرِ کارروائی آنے والے اہلکار رہے جبکہ بعض کیسز میں ایک سے زائد اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔

2023 میں حکام نے بدعنوانی کے کئی کیسز میں چارج شیٹس دائر کیں، جن میں ایسے معاملات بھی شامل تھے جہاں ریونیو اہلکار مبینہ طور پر نجی فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ اس دوران تحصیلدار سطح کے افسران بھی کچھ بڑے مالی معاملات میں سامنے آئے۔

2024 میں بھی یہی رجحان برقرار رہا اور معمول کی خدمات کے عوض رشوت لینے کے الزامات میں پٹواریوں کے خلاف متعدد ٹریپ کیسز درج کیے گئے، جبکہ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے نظامی بدعنوانی کے پہلوؤں پر بھی توجہ دی گئی۔

2025 میں اے سی بی کی تحقیقات میں مزید وسعت آئی اور متعدد اہلکاروں کے درمیان مبینہ ملی بھگت کے کیسز سامنے آئے، جس سے ظاہر ہوا کہ بدعنوانی کے واقعات انفرادی نوعیت سے بڑھ کر منظم شکل اختیار کر رہے ہیں۔

2026 کی تازہ پیش رفت میں پٹواریوں کے ساتھ ساتھ نائب تحصیلداروں کے خلاف بھی رشوت ستانی کے مقدمات درج کیے گئے اور چارج شیٹس پیش کی گئیں۔

حکام کے مطابق یہ رجحان اراضی کے نظام کی ساخت سے جڑا ہوا ہے، جہاں فیلڈ سطح کے اہلکار عوام سے براہِ راست اور زیادہ رابطے میں ہوتے ہیں۔

ایک اہلکار نے بتایا، “جتنا زیادہ عوامی رابطہ ہوگا، اتنی ہی شکایات سامنے آئیں گی، خاص طور پر ابتدائی سطح پر۔”

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل کارروائیوں کے باوجود کیسز کا تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریونیو خدمات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نظامی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img