سرینگر، : کرائم برانچ کشمیر کے اسپیشل کرائم ونگ نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے ڈوڈہ کے ایک شخص کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے بیرونِ ملک ملازمت دلانے کے بہانے ایک نوکری کے خواہشمند کو دھوکہ دیا، اس سے رقم اور دستاویزات حاصل کیں مگر ملازمت فراہم نہیں کی۔
ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اسپیشل کرائم ونگ سرینگر نے ایف آئی آر نمبر 02/2025 کے تحت دفعہ 420 اور 201 آئی پی سی کے تحت فرحت عباس ملک ولد دین محمد ملک، ساکن ٹنڈلہ، تحصیل چلی پنگل، ضلع ڈوڈہ کے خلاف معزز چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں چارج شیٹ پیش کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک شخص، جس نے کووڈ-19 کے دوران اپنی ملازمت کھو دی تھی اور بیرونِ ملک نوکری کی تلاش میں تھا، نے شکایت درج کرائی۔
“اسی دوران اس کا رابطہ ایک دفتر ‘فلائی ہائی بزنس کنسلٹنٹ’ سے ہوا، جو مبینہ طور پر ملزم چلا رہا تھا۔ ملزم نے اسے بیرونِ ملک اچھی تنخواہ والی نوکری دلانے کا وعدہ کیا اور اس بہانے شکایت کنندہ سے بڑی رقم وصول کی اور اس کی اصل دستاویزات بھی لے لیں۔
“تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ ملزم نے بیرونِ ملک ملازمت کے جھوٹے وعدے کر کے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا۔ نہ اس نے نوکری کا بندوبست کیا اور نہ ہی رقم واپس کی۔ شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم نے مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر شکایت کنندہ کو گمراہ کیا۔”
ترجمان کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے بیرونِ ملک نوکری دلانے کے وعدے پر رقم وصول کی تھی مگر وعدہ پورا نہ کر سکا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شکایت کنندہ کا اصل پاسپورٹ، جو ایک اہم دستاویز ہے، گم ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی بنا پر ثبوت ضائع کرنے کے جرم میں دفعہ 201 آئی پی سی بھی شامل کی گئی۔ تحقیقات کے دوران ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے اس کی ضمانت مسترد کر دی ہے اور وہ اس وقت سینٹرل جیل سرینگر میں بند ہے۔ چارج شیٹ مزید عدالتی کارروائی کے لیے متعلقہ عدالت میں پیش کی گئی ہے۔





