بدھ, اپریل ۱, ۲۰۲۶
15.9 C
Srinagar

حکومت کا گلمرگ اور پہلگام جیسے بڑے سیاحتی مراکز میں غیر قانونی تعمیرات کا اعتراف

جموں،: حکومت نے بدھ کے روز بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے 800 سے زائد عمارتوں کی اجازت دی گئی، جبکہ کئی اہم سیاحتی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات بھی مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔

ایم ایل اے وحید الرحمٰن پارہ کے سوال کے جواب میں وزیر سیاحت نے بتایا کہ 2023 سے 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 807 اجازت نامے جاری کیے گئے۔ ان میں سے 2023-24 میں 245، 2024-25 میں 147 اور 2025-26 میں یہ تعداد بڑھ کر 415 ہو گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ اجازت نامے رہائشی مکانات کے لیے دیے گئے جن کی تعداد 544 ہے، جبکہ 121 کمرشل عمارتوں کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ 26 ہوٹل، 14 جھونپڑیاں اور دو گیسٹ ہاؤسز کے لیے بھی اجازت دی گئی۔

حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سیاحتی مراکز پر غیر قانونی اور بغیر اجازت تعمیرات کی بڑی تعداد موجود ہے، جن کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

گلمرگ میں 21 غیر قانونی ڈھانچوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں سے 20 کو سیل جبکہ ایک کو مسمار کیا گیا۔ پہلگام میں 28 ایسی تعمیرات سامنے آئیں، جن میں 13 کو سیل کیا گیا جبکہ باقی کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

پٹنی ٹاپ میں 15 غیر قانونی تعمیرات کو گرایا گیا اور کئی دیگر کو ابتدائی مرحلے میں ہی روک دیا گیا۔ ویریناگ میں چار غیر مجاز تعمیرات پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

دودھ پتھری ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا جہاں 147 غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی ہوئی، جن پر نوٹس جاری کیے گئے اور ایف آئی آر درج کی گئیں۔ سونہ مرگ میں پانچ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بھدرواہ میں 358 نوٹس جاری کیے گئے۔

حکومت کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے خلاف سیلنگ، انہدام، جرمانے اور قانونی کارروائی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کئی معاملات میں مزید کارروائی جاری ہے۔

کے این او

Popular Categories

spot_imgspot_img