سرینگر،: وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے جموں و کشمیر میں مبینہ ایران ڈونیشن اسکینڈل سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور پوسٹس کو جعلی قرار دیتے ہوئے عوام کو غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کرنے اور انہیں پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ایسے پیغامات گردش کر رہے تھے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کے نام پر دھوکہ دہی سے چندہ جمع کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کے کچھ حلقوں میں تشویش پیدا ہو گئی تھی۔
ایم ای اے کے فیکٹ چیک یونٹ نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں وائرل مواد کے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن پر واضح طور پر “FAKE” درج تھا، اور ان دعوؤں کو “جھوٹا اور بے بنیاد” قرار دیا۔
ایڈوائزری میں عوام کو محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا گیا کہ صرف مستند اور مصدقہ ذرائع پر ہی انحصار کیا جائے۔ حکام نے خبردار کیا کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ الجھن اور غیر ضروری خوف و ہراس کا سبب بن سکتا ہے۔
فیکٹ چیک یونٹ کے مطابق، “عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور اس طرح کے گمراہ کن بیانیوں کا شکار نہ ہوں۔”
سرکاری تردید کے باوجود بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اب بھی ان دعوؤں کو پھیلا رہے ہیں، جن میں نامعلوم انٹیلی جنس بیورو اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ کچھ گروہ لوگوں سے جھوٹے بہانوں کے تحت رقم اکٹھی کر رہے ہیں۔
تاہم حکام نے اس طرح کے کسی اسکینڈل کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے ان الزامات کی تائید کی گئی ہے۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ حساس حالات میں غلط معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، خاص طور پر جب اسے بیرونی عناصر یا سیکیورٹی معاملات سے جوڑا جائے، اس لیے فیکٹ چیک ایڈوائزری ایسے دعوؤں کی روک تھام کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔
حکام نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ غیر مصدقہ معلومات کو شیئر کرنا عوام میں خوف و ہراس کو بڑھا سکتا ہے اور گمراہ کن ثابت ہو سکتا ہے، لہٰذا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی بھی مواد کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
وزارتِ خارجہ کی یہ مداخلت حکومت کی جانب سے فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے اور عوام تک صرف مستند معلومات پہنچانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔




