بدھ, مارچ ۲۵, ۲۰۲۶
18.9 C
Srinagar

امریکہ کے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے کی ‘شرائط’ اور ایرانی موقف

مانیٹرنگ ڈیسک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ’’تعمیری‘‘ بات چیت کے دعوے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری ہے۔ اس کشیدگی کے سبب سلامتی اور توانائی کی عالمی صورتحال بھی مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ایران کو امن منصوبے کی پیش کش کرتے 15 نکاتی مذاکراتی ایجنڈا بھیج دیا۔امری اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا نے پاکستان کے ذریعہ ایران کو 15 نکاتی امن منصوبہ بھیجا ہے، جس کا مقصد جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا اور خطے میں امن واپس لانے کی خواہش ہے۔
امریکا نے اس امن منصوبے میں جو شرائط پیش کی ہیں، وہ یہ ہیں۔
1۔ ایران کو موجودہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنا ہوگا۔
2۔ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کرے گا۔
3۔ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں ہو گی۔
4۔ ایران کو اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حوالے کرنا ہوگا۔
5۔ نطنز، اصفہان اور فردو ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنا ہوگا۔
6۔ آئی اے ای اے کو ایران کی جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دی جائے۔
7۔ ایران کو اپنا "علاقائی پراکسی نمونہ” ترک کرنا ہوگا۔
8۔ ایران کی خطے میں پراکسیز کو فنڈنگ بند کرنا ہوں گی۔
9۔ ایران کو اپنا میزائل پروگرام، رینج اور مقدار دونوں میں محدود کرنا ہوگا۔
10۔ ایران کو اپنے میزائلوں کے استعمال کو اپنے دفاع تک محدود رکھنا ہوگا۔
ان شرائط کو ماننے کی صورت میں ایران کو جو عالمی فوائد ملیں گے، ان میں
11۔ عالمی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کا خاتمہ۔
12۔ اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی مدد۔
13۔ ایک "اسنیپ بیک” میکانزم جو خود بخود پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی اجازت دیتا ہے اگر ایران تعمیل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر دی پوسٹ کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں ٹرمپ کے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہیں گی۔

امریکہ کے ساتھ بات چیت میں نائب صدر جے ڈی وینس چیف مذاکرات کار ہوں: ایران

ایران نے مبینہ طور پر امریکہ سے کہا ہے کہ وہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے بجائے نائب صدر جے ڈی وینس سے بات چیت کرنا پسند کرتا ہے۔

سی این این نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں یہ معلومات سامنے آئی ہیں۔ سی این این کے مطابق، ایران نے امریکہ-اسرائیلی فوجی آپریشن کے آغاز سے قبل ہونے والے سابقہ مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے مسٹر وٹ کوف اور مسٹر کشنر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ وہیں رپورٹس کے مطابق نائب صدر وینس کو ایران ایک ایسے سیاست دان کے طور پر دیکھتا ہے جو جنگ بندی کے مفاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں بہت مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے پینٹاگون کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے پانچ دنوں کے لیے ملتوی کردے۔

تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی اور کہا کہ اسے صرف ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں واشنگٹن کی جانب سے مذاکرات میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img