سری نگر،: مرکزی حکومت 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل خواتین کے لیے سیاسی ریزرویشن نافذ کرنے کی غرض سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافے پر غور کر رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ نافذ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی سیاست میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق، مرکز لوک سبھا اور مختلف اسمبلیوں کی مجموعی نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔ اس فارمولے کے تحت جموں و کشمیر اسمبلی کی نشستیں 90 سے بڑھ کر 135 ہو جائیں گی، جبکہ لوک سبھا کی نشستیں پانچ سے بڑھا کر سات یا آٹھ کی جا سکتی ہیں۔
کل نشستوں میں سے 33 فیصد خواتین کے لیے مخصوص کرنے کی تجویز ہے۔ اس حساب سے جموں و کشمیر اسمبلی میں 45 نشستیں خواتین کے لیے مختص ہوں گی، جبکہ لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد سات ہونے کی صورت میں دو اور آٹھ ہونے کی صورت میں تین نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی جائیں گی۔
مرکزی حکومت اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں، بشمول اپوزیشن، سے مشاورت کے ذریعے اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ 2029 کے انتخابات سے قبل قانونی ترامیم کے ذریعے خواتین کے لیے سیاسی ریزرویشن کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب، پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی واحد علاقائی جماعت نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں اس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ پارٹی کے راجیہ سبھا رکن چودھری محمد رمضان نے کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کو بتایا کہ “ہم سے اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں کی گئی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر اپوزیشن کے اتحاد “انڈیا” کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے، جہاں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مرکز کو مجوزہ قانون سازی کی تفصیلات واضح کرنے کے لیے کل جماعتی اجلاس بلانا چاہیے۔
یہ تجویز اگر قانونی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کا اطلاق 2029 میں ہونے والے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات پر بھی ہوگا۔ موجودہ اسمبلی کی مدت 3 نومبر 2029 کو مکمل ہوگی۔
مزید برآں، اگر مرکز مجوزہ قانون سازی منظور کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نئی حلقہ بندیوں کے لیے فوری طور پر ایک ڈیلمیٹیشن کمیشن تشکیل دیا جائے گا، جو لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حدود ازسرنو متعین کرے گا۔
تجویز کے مطابق حلقہ بندیوں کی بنیاد 2011 کی مردم شماری کو بنایا جائے گا، جبکہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت خواتین کے لیے ریزرویشن کا اطلاق 2027 کی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیوں کی تکمیل پر ہی ممکن ہے۔ (کے این او)





