سرینگر: جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر فائرنگ کی کوشش کے الزام میں گرفتار 63 سالہ شخص نے ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ بیس برس سے نیشنل کانفرنس کے صدر کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
تاہم پولیس نے اس دعوے کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ ویڈیو میں ملزم کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے:“میں گزشتہ بیس برس سے فاروق عبداللہ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ یہ میرا ذاتی ایجنڈا تھا۔ آج میں نے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ ہتھیار میرا ذاتی ہے اور یہ مجھے جاری کیا گیا تھا۔”
ملزم نے ویڈیو میں یہ بھی کہا کہ اس کی عمر 63 برس ہے اور وہ اس وقت کوئی کام نہیں کرتا۔جموں کے ایس پی سٹی ساؤتھ اجے شرما کے مطابق جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران لائسنس یافتہ ہتھیار سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جہاں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بھی موجود تھے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ واقعہ تھانہ گنگیال کے دائرہ اختیار میں پیش آیا، ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق اس واقعے میں دہشت گردی کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ محفوظ ہیں۔
کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں میں ایک تقریب کے دوران ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملے کی خبر تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ وہ محفوظ رہے، تاہم اس بات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ ایک مسلح شخص اتنا قریب کیسے پہنچ گیا اور فائرنگ کیسے کر سکا۔
پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، سریندر چودھری اور ناصر اسلم پر فائرنگ بزدلانہ حرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سب محفوظ ہیں۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرہ نے اس واقعے کو چونکا دینے والا اور انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر سیاسی رہنما پر اس نوعیت کا حملہ ناقابل قبول ہے اور اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔
ادھر حکمران نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات نہایت تشویشناک ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔





