سری نگر: وادی کشمیر میں تقریباً ایک ہفتے تک جاری کشیدہ صورتحال کے بعد حالات معمول پر آ گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے مختلف علاقوں میں عائد پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں جس کے بعد بازاروں میں دوبارہ رونق لوٹ آئی ہے اور معمول کی زندگی بحال ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
حکام کے مطابق ہفتے کے روز سرینگر سمیت وادی کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت بھی بحال ہو گئی ہے۔ شہریوں نے روزمرہ کے معمولات دوبارہ شروع کر دیے ہیں اور بازاروں میں خریداروں کی اچھی خاصی چہل پہل دیکھی جا رہی ہے۔
انتظامیہ نے شہر کے حساس علاقوں میں نصب رکاوٹیں اور خار دار تاریں بھی ہٹا دی ہیں۔ خاص طور پر سرینگر کے مرکزی تجارتی مرکز لالچوک میں گزشتہ کئی دنوں سے قائم سکیورٹی رکاوٹیں ختم کر دی گئیں جس کے بعد ٹریفک کی آمد و رفت بھی معمول کے مطابق شروع ہو گئی۔ اس اقدام کے بعد شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر ہو گئی اور لوگوں کو نقل و حرکت میں آسانی ہوئی۔
دریں اثنا حکام نے ہائی سپیڈ موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بھی مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران مظاہروں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کم کر دی گئی تھی یا بعض علاقوں میں محدود کر دی گئی تھی۔ تاہم حالات میں بہتری آنے کے بعد اب صارفین کو دوبارہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جس سے کاروباری، تعلیمی اور دیگر آن لائن سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ سکیں گی۔
انتظامیہ کے مطابق اگرچہ حالات اب کافی حد تک بہتر ہو چکے ہیں، تاہم سکیورٹی ادارے بدستور چوکس ہیں اور مختلف علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تعینات رکھا گیا ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب شہریوں اور تاجر برادری نے بھی حالات کی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پابندیوں اور بندشوں کے باعث کاروبار کافی متاثر ہوا تھا، تاہم اب بازار کھلنے سے امید ہے کہ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ جائیں گی اور نقصان کی تلافی ممکن ہو سکے گی۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ افراد نے بھی کہا کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بحال ہونے سے عوام کو بڑی سہولت ملی ہے کیونکہ گزشتہ چند دنوں کے دوران لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
اگرچہ بیشتر شعبوں میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر تعلیمی اداروں کو 9 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد طلبہ اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر وادی میں زندگی تیزی کے ساتھ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے اور عوام نے بھی سکون کا اظہار کیا ہے۔





