جمعہ, فروری ۲۰, ۲۰۲۶
15.6 C
Srinagar

جموں و کشمیر میں ڈونیشن پر اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس میں کسی بھی مذہبی ادارے کو رعایت نہیں: حکومت

جموں: جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کے سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ مرکز کے زیر انتطام علاقے میں کسی بھی مذہبی یا خیراتی ادارے—بشمول وقف بورڈز اور ہندو مذہبی و فلاحی اداروں—کو ڈونیشن کی صورت میں جائیداد کی منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی یا رجسٹریشن فیس میں کوئی چھوٹ فراہم نہیں کی جاتی ہے۔

محکمہ رجسٹریشن کی جانب سے ایوان کو بتایا گیا کہ موجودہ قانون کے مطابق اسٹامپ ڈیوٹی اسٹامپ ایکٹ 1977 کی دفعہ 3 کے تحت اور رجسٹریشن فیس رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت وصول کی جاتی ہے۔ حکومت نے کہا کہ ڈونیشن کے عنوان سے کوئی بھی دستاویز اسٹامپ ایکٹ کے شیڈول میں موجود نہیں، اس لیے ایسی کسی چھوٹ کا قانونی جواز بھی دستیاب نہیں ہے۔

جواب میں مزید بتایا گیا کہ سابقہ جموں و کشمیر وقف ایکٹ 2001 کے تحت وقف اداروں کو کچھ رعایتیں حاصل تھیں، تاہم ریاست کی تنظیمِ نو کے بعد یہ قانون منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ مرکزی وقف ایکٹ 1995 نافذ کیا گیا، جس میں اسٹامپ ڈیوٹی سے متعلق کوئی استثنا موجود نہیں ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹریشن فیس کا اطلاق صرف دستاویز کی نوعیت پر ہوتا ہے، نہ کہ ادارے کے مذہبی یا خیراتی کردار پر اور اس سلسلے میں کسی نئی چھوٹ پر فی الحال غور نہیں کیا جا رہا ہے۔
ایس ایل یو چارجز سے متعلق دوسرے حصے کے جواب میں حکومت نے کہا کہ فی مربع فٹ 5 روپے کے موجودہ چارجز میں کمی سے متعلق تجاویز محکمہ ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کے زیر غور ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

حکومت نے یقین دلایا کہ کمیٹی کی سفارشات موصول ہوتے ہی موزوں فیصلہ لیا جائے گا، تاہم کسی حتمی تاریخ کا اعلان فی الوقت ممکن نہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img