واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو اس کے "برے نتائج” برآمد ہوں گے۔ انہوں نے ایران کے بارے میں فیصلے کے لیے اپنی ٹائم لائن میں 10 سے 15 دن کی توسیع کر دی ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں بڑے پیمانے پر اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے، جس سے ایک وسیع جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ تہران کو ایک "بامعنی” معاہدے پر پہنچنا چاہیے ۔ خدشات کے درمیان ، امریکہ اس ہفتے کے آخر میں ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے ، حالانکہ ٹرمپ نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ایئر فورس ون پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ” زیادہ سے زیادہ 10-15 دن ۔”انہوں نے کہا کہ "یا تو ہمارا کوئی معاہدہ ہو جائے گا ورنہ یہ ان کے لیے افسوسناک ہوگا۔”
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ انہیں 10 دنوں کے اندر معلوم ہو جائے گا کہ آیا ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔ ‘بورڈ آف پیس’ کے افتتاحی اجلاس کے دوران تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "ہمیں شاید ایک قدم آگے بڑھنا پڑے، یا شاید نہیں۔ ہو سکتا ہے ہم کوئی سودا کر لیں۔ آپ کو اگلے غالباً 10 دنوں میں پتہ چل جائے گا۔”
ٹرمپ نے اسرائیل کے اصرار پر ایران کے خلاف بار بار فوجی کارروائی کا اشارہ دیا ہے، جس کا آغاز گزشتہ ماہ حکومت مخالف مظاہرین پر ہونے والی مہلک کارروائی (جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے) اور ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بعد ہوا تھا، تاہم اب تک وہ ڈیڈ لائن مقرر کرنے سے گریز کر رہے تھے۔
گزشتہ سال جون میں ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے دہرایا کہ ایران "ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا”۔
انہوں نے کہا کہ "اگر ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں گے تو آپ مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں رکھ سکتے۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "اب وقت آگیا ہے کہ ایران اس راستے پر ہمارے ساتھ شامل ہو جائے جو اس کام کو مکمل کرے گا جو ہم کر رہے ہیں۔”
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اگر وہ ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں تو یہ بہت اچھا ہوگا اور اگر وہ شامل نہیں ہوتے تو وہ بھی اچھا ہوگا۔ لیکن پھر راستہ بالکل مختلف ہوگا۔ وہ پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالنا جاری نہیں رکھ سکتے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "انہیں معاہدہ کرنا ہی ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا… تو برے نتائج برآمد ہوں گے۔”
یو این آئی





