جموں: حکومت نے جمعہ کو اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران جموں و کشمیر میں باسی اور غیر محفوظ گوشت و گوشت مصنوعات کی فروخت کے متعدد واقعات سامنے آئے، جن کے خلاف محکمہ خوراکی تحفظ کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔سرکار کے مطابق یہ واقعات معمول کی نگرانی مہمات کے دوران سامنے آئے جس کے بعد تمام اضلاع میں خصوصی انفورسمنٹ ڈرائیوز چلائی گئیں۔
حکومت کے مطابق دسمبر 2025 تک مجموعی طور پر 12 ہزار 183 اعشاریہ 5 کلوگرام باسی اور غیر محفوظ گوشت ضبط کر کے تلف کیا گیا جس کی مالیت تقریباً 29 لاکھ 19 ہزار 60 روپے بنتی ہے۔ اس دوران 1676 معائنہ جات انجام دیے گئے اور 144 نمونے حاصل کیے گئے۔ لیبارٹری رپورٹ کے مطابق 17 نمونے غیر محفوظ جبکہ ایک نمونہ غیر معیاری قرار دیا گیا۔
ضلع سری نگر اور کولگام میں سب سے زیادہ مقدار ضبط کی گئی جبکہ کپوارہ، گاندربل اور اننت ناگ اضلاع میں بھی نمایاں کارروائیاں کی گئیں۔
جموں صوبے میں بھی کارروائی کے دوران 7 ہزار 665 کلوگرام پنیر ضبط کیا گیا جس کی مالیت 16 لاکھ 32 ہزار 150 روپے بتائی گئی ہے۔ ضبط شدہ اشیاء کے نمونے تجزیے کے لیے جموں و کشمیر کی فوڈ لیبارٹریز کے علاوہ نیشنل فوڈ لیبارٹری، ایف آئی سی سی اور نیشنل میٹ ریسرچ کو بھی بھیجے گئے۔
حکومت نے واضح کیا کہ کارروائیاں فوڈ سیفٹی اینڈ سٹنڈرڈ ایکٹ, 2006 کے تحت کی جاتی ہیں، جس میں معائنہ، نمونہ برداری، عدالتی کارروائی اور جرمانے شامل ہیں۔ اس قانون میں عمومی طور ایف آئی آر درج کرنے یا گرفتاری کی گنجائش نہیں ہوتی، اسی لیے بیشتر معاملات میں گرفتاریاں عمل میں نہیں لائی گئیں۔
محکمہ کے پاس جموں اور سری نگر میں جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں اور 12 موبائل فوڈ ٹیسٹنگ یونٹس موجود ہیں، تاہم تکنیکی عملے کی کمی کا اعتراف بھی کیا گیا ہے۔ خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے بھرتی کا عمل شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ عارضی عملہ بھی تعینات کیا گیا ہے۔ شہریوں کے لیے شکایات درج کرانے کی خاطر ٹول فری نمبر 104 اور آن لائن پورٹل بھی فعال ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور قانونی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔





