جموں: حکومت نے جمعہ کو اسمبلی میں دودھ پتھری اور یوسمرگ جیسے مقامات کی بندش کے بارے میں واضح کیا کہ ان مقامات کی دوبارہ کھولنے سے متعلق فیصلہ سیکیورٹی انتظامات سے جڑا ہوا ہے۔رکن اسمبلی بڈگام آغا منتظر کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے کہا حالیہ واقعات نے سیاحوں کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے جو براہ راست یا بلواسطہ سیاحت سے منسلک ہیں۔سرکاری جواب میں کہا گیا کہ سیاحتی صنعت کو سہارا دینے کے لیے مختلف ریلیف، معاوضے اور بحالی کے اقدامات پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
دودھ پتھری اور یوسمرگ جیسے مقامات کی بندش کے بارے میں حکومت نے واضح کیا کہ ان مقامات کی دوبارہ کھولنے سے متعلق فیصلہ سیکیورٹی انتظامات سے جڑا ہوا ہے۔ محکمہ سیاحت نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر بڈگام کو خط نمبر TSM/TDA/51/2021 مورخہ 10 اکتوبر 2025 کے ذریعے سفارشات ارسال کی ہیں اور متعلقہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی رائے کا انتظار ہے۔محکمہ نے یہ بھی وضاحت کی کہ سیاحتی مقامات کی بندش یا بحالی کا اختیار مکمل طور پر محکمہ سیاحت کے دائرہ کار میں نہیں آتا بلکہ اس میں سیکیورٹی اداروں کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے باوجود سیاحت کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں اور مستقبل قریب میں مزید اقدامات متوقع ہیں۔
محکمہ سیاحت کے مطابق متعدد پروموشنل کیمپیئنز، فلیگ شپ ایونٹس اور تھیمیٹک فیسٹیولز یونین ٹیریٹری کے اندر اور باہر منعقد کیے گئے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ سرمائی سیاحتی سیزن کے دوران ایک بار پھر بہتر سرگرمیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔
سیاحت کو فروغ دینے کے لیے انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن، سیکیورٹی اعتماد سازی کے اقدامات اور مختلف ترقیاتی پہلیں بھی شروع کی گئی ہیں، تاکہ جموں و کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کو دوبارہ مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پیش آئے حالیہ واقعات نے وادی کی سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاحوں کی آمد میں کمی، ہوٹل بُکنگ کی منسوخیوں اور متعلقہ شعبوں میں مالی نقصان کی شکایات سامنے آئی ہیں۔





