جموں: جموں و کشمیر انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ مرکزی زیر انتظام علاقے خصوصاً ضلع سانبہ میں کسانوں کی کھڑی فصلیں بندروں اور آوارہ جانوروں کی وجہ سے شدید نقصان سے دوچار ہو رہی ہیں۔ یہ انکشاف اُس وقت سامنے آیا جب قانون ساز کونسل میں شری سُرجیت سنگھ سلاتھیا نے فصلوں کو درپیش اس سنگین خطرے پر حکومت سے وضاحت طلب کی۔
حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے جواب میں کہا گیا کہ بندروں اور دیگر آوارہ جانوروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے نہ صرف دھان، سبزیوں اور دیگر اہم فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ پھل دار باغات بھی اس حملے سے محفوظ نہیں رہے۔ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا کہ بندرکو 2022 میں جنگلاتی تحفظات قوانین میں ترمیم کے بعد محفوظ جانوروں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، جس سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر مزید اقدامات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق کسانوں کی فصلوں کو محفوظ رکھنے کے لیے متعدد حکمت عملیوں پر عمل جاری ہے۔ محکمہ زراعت نے بندر یلغار سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کی تبدیلی کو ترجیحی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کسانوں کو ایسی فصلیں اگانے کی ترغیب دی جا رہی ہے جنہیں بندر عام طور پر نقصان نہیں پہنچاتے۔ ان میں لیمون گراس، پالماروزا، پودینہ، تلسی، اشوگندھا، ایلوویرا، ہلدی، ادرک، لہسن، مرچ، باجرا، فنگر ملیٹ، برنیارڈ ملیٹ اور ڈریگن فروٹ جیسی معاشی و تجارتی اہمیت کی حامل فصلیں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ فصلیں نہ صرف بندروں کے حملے سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ کسانوں کو بہتر معاشی منافع بھی فراہم کرتی ہیں۔
حکومت نے مزید بتایا کہ کسانوں کو شمسی باڑ لگانے کے لیے 50 فیصد سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جس کے تحت ایک ہیکٹر تک کی باڑ کے لیے ایک لاکھ روپے تک کی مالی معاونت دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ باغاتی علاقوں میں منی رپیالر گنز بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ بندروں کو فصلوں سے دور رکھا جا سکے۔محکمہ جنگلات کی جانب سے جنگلاتی علاقوں میں پھل دار درخت لگانے کا منصوبہ بھی جاری ہے تاکہ بندر خوراک کی تلاش میں زرعی اور رہائشی علاقوں میں داخل نہ ہوں۔ حکام نے عوام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ بندروں کو کھانا کھلانے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے اُن کی آبادی انسانی آبادی کے قریب بڑھنے لگتی ہے اور مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
حکومتی جواب کے مطابق انتظامیہ اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد محکموں کی باہمی مشاورت سے مستقل حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے تاکہ کسانوں کی محنت اور فصلیں مستقبل میں محفوظ رہ سکیں۔




