ہفتہ, فروری ۷, ۲۰۲۶
1.3 C
Srinagar

سی ایس پی اوسی میں سیکھنے اور سکھانے کا سیشن اہم: مودی

مودی نے دولت مشترکہ ممالک کے پارلیمانوں کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران کی کانفرنس کا افتتاح کیا

نئی دہلی،: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یہاں دولت مشترکہ ممالک کے پارلیمانوں کے اسپیکروں اور پریزائیڈنگ افسران کی 28ویں کانفرنس کا افتتاح کیا۔

کانفرنس کے آغاز سے قبل کانفرنس کی صدارت کر رہے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے وزیر اعظم اور دیگر ممالک سے آئے اپنے ہم منصبوں کا خیرمقدم کیا۔

کانفرنس میں بین پارلیمانی یونین کی صدر ڈاکٹر تُلیا اکسن، دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے صدر کرسٹوفر کلیلا اور راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش سمیت دولت مشترکہ کے 42 ممالک کے 61 اسپیکر اور پریزائیڈنگ افسران شرکت کر رہے ہیں۔

ہندوستان چوتھی بار اس کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور آخری بار اس نے 16 سال پہلے اس کی میزبانی کی تھی۔کانفرنس کا آغاز مسٹرہری ونش کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا۔

سی ایس پی اوسی میں سیکھنے اور سکھانے کا سیشن اہم: مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کامن ویلتھ اسپیکرز اینڈ پریزائیڈنگ آفیسرز (سی ایس پی او سی) کانفرنس میں اس مرتبہ خاص یہ ہے کہ ہم اپنے تجربات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گے اور اپنے جمہوری عمل کے چیلنجوں کو اہمیت دیتے ہوئے سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو آگے بڑھانے پر خصوصی غور کریں گے۔

جمعرات کو یہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایوانِ دستور کے سنٹرل ہال میں سی ایس پی او سی کے 28ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے سے سیکھنا اور سکھانا ہے تاکہ جمہوری عمل کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوامی بہبود کی اسکیموں کو سب کے فائدے کے لیے یکساں طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے والے عمل پر خاص غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا اور اے آئی کے کردار کے تناظر میں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی ایک بڑا چیلنج ہے اور اسے ہندوستان میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسے پارلیمنٹ اور ق اسمبلیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سے درپیش چیلنجز پر بھی اس کانفرنس میں غور کیا جانا چاہیے۔

یواین آئی

Popular Categories

spot_imgspot_img