منگل, ستمبر 1, 2026
22.3 C
Srinagar

موسم کی تباہ کاریاں اور چیلنجز۔۔۔۔۔

ستمبر رواں سال کا دوسرا گرم ترین مہینہ رہا اور ستمبر میں دنیا بھر میں بارشیں بھی انتہائی ہوئیں اور تباہ کن طوفان بھی آئے۔گزشتہ منگل کو یورپی یونین کے کلائیمنٹ مانیٹر نے کہا کہ عالمی طور پر یہ ریکارڈ گرم تر ین مہینہ ہے، رواں سال گرمی کی شدت گلو بل وارمنگ کے تناطر میں غیر معمولی رہی ہے، ستمبر میں دنیا بھر میں بارشیں بھی انتہائی ہوئیں اور تباہ کن طوفان بھی آئے، موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر درجہ حراست میں بھی اضافہ ہوتاجارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں امسال درجہ حرارت اس سے دوسرے نمبر پر رہا۔کلائمیٹ مانیٹر نے یہ بات موسمیاتی سیاروں بحری جہازوں، طیاروں اور موسمی دفاتر سے حاصل پیمائش کے تجزیہ میں بتائی گلو بل وار مینگ ہی دنیا کا درجہ حرارت بڑھنے کی واحد وجہ بنیں بلکہ ماحول اور سمندروں کا اضافی طور پر گرم ہونا بھی وجہ ہیں، گرم ہوا میں آبی بخارات زیادہ ہوتے ہیں جبکہ بڑے سمندروں سے بھی بخارات ہوا میں منتقل ہوتے ہیں جو شدید بارشوں اور طوفانوں کا باعث ہوتے ہیں۔کلا ئیمٹ چینج سروس کی ڈپٹی ڈائر یکٹر سمانتھا برگیس نے بتایا کہ جو بارش مہینوں میں ہونا تھی وہ اس بار چند دنوں میں ہی ہوگئی ہے، تباہ کن بارشوں کا ہونا ماحول کے گرم ہونے کی وجہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑ ھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ طوفانی بارشوں کا خطرہ بھی بڑھتا جائے گا، ستمبر کو منتھاآف وائلڈ ورڑ کا نام بھی دیا گیا ہے، جب جنوب مشرقی امریکا کو طوفان سہیلن”کرا تھون“نے تائیوان کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ طوفان بورس نے وسطیٰ یورپ میں تباہی مچائی۔”یاکی“ اور بے بنکا طوفان ایشیاءمیں نشان چھوڑ گئے، نیپال ، جاپان اور مغربی ،و سطی افریکا تباہ کن سیلابوں کی زد میں آئے افریکا، روس ، چین آسٹر یلیا اور بر ازیل میں بھی اوسط سے زیادہ موسم گرم رہا۔
آج جب ہم اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہمارے ماحول میں کس قدر آلودگی پیدا ہوچکی ہے۔ہوا سے لے کر پانی تک، غذا سے لے کر مٹی و زمین تک شاید ہی کوئی چیز ہو جو آلودگی سے محفوظ ہو۔آلودگی کی وجہ سے آج ایک سنگین ماحولیاتی بحران پیداہوچکا ہے۔ یہ بحران اتنا شدید ہے کہ اس نے کرہ ارض کے مستقبل پر ہی سوالیہ نشانات لگادیے ہیں۔تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر انسان اس ماحولیاتی بحران کی زد میں ہونے کے باوجود اس سے بے خبر و غافل ہیں۔ہم اس بات سے بے خبر ہیں کہ آئندہ پانچ سالوں میں ہمارے ملک کے اکثر شہروں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی۔ماہرین کا سوال ہے کہ کیا دنیا ایک دور کی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے؟۔وہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ اگرآپ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس سے اتفاق کرتے ہیں، تو اب وہ حد بھی پار ہوگئی ہے۔ گوٹیرس کے مطابق، دنیا گلوبل وارمنگ کے دورکوختم کر کے گلوبل بوائلنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو قدرت بھی کچھ ایسے ہی اشارے کر رہی ہے۔ ایک ہی وقت میں دنیا میں کہیں سمندرمیں طغیانی اپنے عروج پر ہے، تو کہیں سیلاب سے تباہی مچ رہی ہے، کہیں خشکی کا خطرہ منڈلا رہا ہے، تو کہیں برف سے جمی ہوئی زمین گرم درجہ حرارت سے جل رہی ہے۔ سرد پہاڑوں اورسرد موسم کے لئے مشہور یورپ، امریکہ اور چین جیسے ممالک گرمی کی لہر سے جھلس رہے ہیں۔
ہندوستان کی بات کریں تو ہماچل پردیش، جموں کشمیر، اتراکھنڈ، مہاراشٹر، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور راجستھان سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں سیلاب، بارش اور خشک سالی کی وجہ سے صورتحال بدتر ہوگئی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے بدلتے بر ق رفتار اوراق میں ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ماحولیات کے حوالے سے اپنے اندر شعور پیدا کریں اور آنے والی نسل کو اس حوالے سے حساس بنائیں ۔ہمیں جنگلات اورآبی ذخائر کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا جبکہ انتظامیہ کو بیداری مہم کیساتھ ساتھ ایک جامعہ پالیسی ترتیب دینی ہوگی اور ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے تغافلی اپروچ اپنانے کی بجائے سخت قوانین بنانے ہوں گے اور ان پر زمینی سطح پر عمل در آمد کو بھی یقینی بنانا ہوگا ۔

Popular Categories

spot_imgspot_img