بھنڈ کی بیسلی ندی میں طغیانی، مہگاؤں کے نصف درجن گاؤں پانی سے گھرے، ٹریفک ٹھپ

بھنڈ کی بیسلی ندی میں طغیانی، مہگاؤں کے نصف درجن گاؤں پانی سے گھرے، ٹریفک ٹھپ

بھنڈ،: مدھیہ پردیش کے ضلع بھنڈ کے مہگاؤں علاقے میں بیسلی ندی میں طغیانی کی وجہ سے نصف درجن گاؤں متاثر ہوئے ہیں۔ ان دیہات کے لوگوں کو کمرتک گہرے پانی سے گزرنا پڑرہا ہے۔

ہر سال بارش کے چار مہینوں میں کئی بار بیسلی ندی کے پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ اس ندی کے آس پاس تقریباً نصف درجن گاؤں ہیں، جہاں لوگوں کو پانی سے ہوکر آنا جانا پڑتا ہے۔ جب پانی کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے تو یہ پانی گاؤں کے چاروں طرف پھیل جاتا ہے۔ یہ گاؤں جزیروں کی طرح بن جاتے ہیں۔ ان گاؤں کے بزرگوں کا کہنا ہے تھا کہ یہ صورتحال ہر 2 سے 3 سال بعد پیدا ہوتی ہے۔ اس بار ابتدائی مرحلے میں بارش اچھی رہی ہے۔ اس کی وجہ سے بالائی علاقے میں زیادہ پانی آنے کے باعث گاتا، گوداولی، کترول جیسے گاؤں کی سڑکیں پانی سے بھر گئی ہیں۔

بیسلی میں طغیانی کی وجہ سے گاؤں کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ پانی کی وجہ سے بچوں کا اسکول آنا بند ہو گیا ہے اور وہ گھروں میں چھٹیاں منارہے ہیں۔ مہگاؤں علاقے کے گاتا، گوداولی، کترول، مان پور، اجنول زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان دیہاتوں کے ٹیوب ویل، ہیڈ پمپ اور کنویں بارش کے گندے پانی سے بھر گئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ پانی اب پینے کے قابل نہیں رہا۔ لوگ یہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ مقامی لوگوں نے بھی بیماری پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

یواین آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.