دُور رَس پالیسی کا فقدان۔۔۔۔۔۔۔

دُور رَس پالیسی کا فقدان۔۔۔۔۔۔۔

ملک کے وزیر اعظم نریندرا مودی جہاں ایک طرف ملک کی تیز تر ترقی اور سلامتی کی خاطر روس کے دورے پر ہیں، وہیں دوسری جانب ملک کی اندرونی سیکیورٹی صورت ِ حال کو دیکھ کر اہل وطن کاخون کھول اٹھتا ہے ۔جب بار بار ملک کی رکھوالی کررہے فوجی جوان ،پولیس اور دیگر حفاظتی اہلکار ملی ٹنٹ حملوں میں شہید کئے جاتے ہیں۔تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بننے کے بعد اب تک جموں کشمیر میںلگ بھگ ایک درجن ملی ٹنٹ حملے ہوئے ،اس دوران ملک کے متعدد فوجی جوان جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ابھی راجوری اور کولگام کے زخم تازہ ہی تھے کہ کٹھوعہ میں ایک اور ملی ٹنٹ حملہ ہوا جس میں پانچ جوان جاں بحق جبکہ اتنی ہی تعداد میںدیگر جوان زخمی ہوئے ، جن کا علاج پھٹان کوٹ فوجی اسپتال میں چل رہا ہے۔ملک کے سیاستدان ان حملوں کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن ان حملوں پر خوب سیاست بھی کی جاتی ہے۔اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ہے کہ بھارت جس تیزی کے ساتھ مختلف شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے، اُسی تیزی کے ساتھ ملک دشمن عناصر ملک کے اندر اور ملک کے باہر اس ملک کو کمزور کرنے کے لئے سازشیں رچا رہے ہیں۔ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے جتنی ضرورت خارجہ پالیسیمضبوط بنانے کی ہے، اس سے کئی زیارہ ضرورت ملک کی اندرونی پالیسی بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت بھی ہے۔

کیونکہ ملک کے اندر چھپے دشمن بیرونی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں ۔گزشتہ دس برسوں کے دوران اگر چہ مرکزی سرکار نے ملک دشمنی کے خلاف نمٹنے کے لئے کئی کارگر اقدامات کئے ہیں،جسکی وجہ سے ملک دشمنی میں ملوث افراد کی زمین ۔جائیداد کو ضبط کرنا،ملی ٹنٹوں کو مالی طور کمزور کرنے کے لئے نوٹ بندی کا اعلان کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں لیکن پھر بھی کچھ مدت کی خاموشی کے بعد یہ ملک دشمن عناصر سرگرم ہو جاتے ہیں ،گھات لگا کر حملے کر کے اپنی موجودگی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔اصل میں ہمارے حفاظتی ادارے ملک دشمنی کے خطر ناک درخت کی شاخیں کاٹ دیتے ہیں،یعنی شاخ تراشی کی جارہی ہے ، لیکن اصل جڑ وہیں کی وہیں موجود ہے، جو وقت آنے پر پھر سے اپنی شاخیں پھیلادیتی ہیں۔ایسا محسوس ہوتاہے کہ ملک میں اندرونی سلامتی کے حوالے سے مربوط اور دور رس پالیسی کی کمی ہے۔ملک کے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کو مل بیٹھ کر اندرونی سلامتی کے لئے مضبوط پالیسی بنانی چاہیے ، اس کے لئے ملک میں ایسے ذی حس اور باشعور لوگوں سے بھی وقتاً فوقتا ًصلاح مشورہ کرنا چاہیے ، جو شاید سرکار کی نظروں میں نہیں ہیں ۔جن کے پاس دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے تجربہ اور علم بھی ہے، تاکہ ملک کی اندرونی سلامتی کی پالیسی مضبوط اور بہتر بن سکے اور اندرونی دشمنوں کا مقابلہ بہ آسانی کیا جاسکے، جوخارجی جنگوں سے مہلک اور خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.