کیجریوال نے سی بی آئی کے ذریعے اپنی گرفتاری کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا

کیجریوال نے سی بی آئی کے ذریعے اپنی گرفتاری کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا

نئی دہلی:  ایکسائز پالیسی 2021-22 (جسے تنازعہ کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا) کے مبینہ گھوٹالے کے ملزم دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی طرف سے دیے گئے گرفتاری کے نوٹس پر خصوصی عدالت کے حکم کے ساتھ ساتھ گرفتاری کو جواز فراہم کرنے والے ریمارکس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ملزم مسٹر کیجریوال، جو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مقدمے میں مارچ سے تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں بند تھے، کو سی بی آئی نے 26 جون کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔ اسی دن سی بی آئی کی درخواست پر خصوصی عدالت نے انہیں تین دن کے لیے اس مرکزی تفتیشی ایجنسی کی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد خصوصی عدالت نے ہفتہ 29 جون کو سی بی آئی کی درخواست پر انہیں 12 جولائی تک عدالتی حراست میں بھیج دیا۔راؤزایونیو میں واقع خصوصی تعطیلاتی جج سنینا شرما نے یہ حکم اس وقت دیا جب سی بی آئی نے مسٹر کیجریوال کی حراست میں توسیع نہ کرنے اور انہیں 14 دن کے لئے عدالتی حراست میں بھیجنے کی درخواست کی تھی ۔

سی بی آئی کی طرف سے یہ دلیل دی گئی کہ کیجریوال ایک بااثر سیاست دان ہیں۔ اگر نہیں حرست میں نہیں رکھا گیا تو وہ ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتے ہیں اور گواہوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔راؤز ایونیو میں واقع خصوصی عدالت کے تعطیلاتی جج امیتابھ راوت نے 26 جون کو مسٹر کیجریوال کو تین دن کی سی بی آئی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

جب حراست کی مدت 29 جون کو ختم ہوئی تو سی بی آئی نے انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا۔وزیر اعلی کیجریوال، جو ایکسائز پالیسی سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں 21 مارچ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ گرفتاری کے بعد تہاڑ جیل میں عدالتی حراست میں تھے، کو سی بی آئی نے 26 جون کو گرفتار کیا تھا۔ عدالت کی اجازت پر سی بی آئی نے مسٹر کیجریوال سے 25 جون کو جیل میں پوچھ گچھ کی تھی۔ پوچھ گچھ کے بعد انہیں 26 جون کو باضابطہ طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس سے پہلے 20 جون کو خصوصی عدالت نے ای ڈی کے ذریعہ درج کیس میں مسٹر کیجریوال کو ضمانت دی تھی۔ ای ڈی کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ نے 21 جون کو عبوری حکم امتناعی جاری کردیا تھا۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.