نئی سرکارمضبوط یا کمزور؟۔۔۔۔۔۔

نئی سرکارمضبوط یا کمزور؟۔۔۔۔۔۔

18ویں لوک سبھا انتخابات کے بعد جس طرح کے نتائج سامنے آئے ، صا ف لگ رہا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ منسلک سیاسی جماعتیں وزراءکے قلمدان کو لیکر بھاجپا کو اہم وزارت فراہم کرنے کے لئے مجبور کریں گی ، جو سراسر غلط ثابت ہوا ۔ ملک کے وزیر اعظم نے بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے سینئر اور تجروبہ یافتہ لیڈران کو وزارت کے اہم قلمدان جس طرح سونپ دیئے ہیں ،وہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی ،اندرونی سلامتی ،اقتصادی خوشحالی اور خارجی پالیسی پر ملک کے وزیر اعظم کسی قسم کی خامی یاکوتاہی برداشت نہیں کریں گے ۔وزیر اعظم کے اس اہم فیصلے پرسرکار میں شامل دیگر ساتھیوںنے سر تسلیم خم کیا ہے جو کہ اس نئی سرکار کی صحت کے لئے مضبوطی کی علامت تصور کیا جارہا ہے۔وزارت داخلہ،وزارت دفاع،وزارت خارجہ اور خزانہ کا قلمدان اسی لئے سابقہ وزراءکو دیا گیا ہے جو کہ تجروبہ یافتہ ہی نہیں بلکہ قابل اور جراتمند بھی ہیں، تاکہ وہ اپنے منصوبوں کو مزید آگے بڑھا سکیں۔مختلف سیاستدان ،صحافی اور تجزیہ نگار وزیرا عظم کے اس فیصلے کو نہ صرف ملک کی تعمیر و ترقی اور سلامتی و خوشحالی کے لئے انتہائی اہم مانتے ہیں بلکہ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے بی جے پی زمینی سطح پر اور زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے اورملک میں بی جے پی نہ صرف اپنا دبدبہ قائم رکھے گی بلکہ سرکاری کام کاج بھی بہتر ڈھنگ سے ہو سکتا ہے۔

آج تک دیکھا گیا ہے کہ ملک میں جہاں کہیں بھی مخلوط سرکار بنی، وہ نہ صرف کمزور ہوتی تھی بلکہ ان سرکاروں شامل سیاستدانوں کی آپسی کھینچا تانی سے عام لوگ بھی متاثر ہوتے تھے۔ عام لوگوں کے کام بہتر ڈھنگ سے نہیں ہوتے تھے، نہ ہی ملک کے عوام کی خوشحالی اور سلامتی کے لئے بہتر فیصلے لئے جاتے تھے۔ جہاں تک ملک میں بنی نئی مخلوط سرکار کا تعلق ہے، وہ نہ صرف اپنی مدت پوری کر سکتی ہے بلکہ ملک کے عوام کی بہتر ی وبھلائی کےلئے وہ اچھے ڈھنگ سے کام کرسکتی ہے کیونکہ اس کا عندیہ قلمدانوں کی تقسیم سے صاف نظر آرہا ہے۔جہاں تک ملک کے وزیر اعظم کا تعلق ہے، وہ گزشتہ دس برسوں سے جس طرح ملک کی تعمیرو ترقی اور عالمی سطح پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں ،اُمید کی جاتی ہے کہ آنے والے پانچ برسوں کے دوران وہ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں، جس کا انہوں نے ملک کے عوام سے انتخابی ریلیوں میں وعدہ کیا ہے۔ملک کے تمام سیاستدانوں ،بیوروکریٹوں ،صحافیوں اور دانشوروں کو مثبت انداز میں اس حکومت کا ساتھ دینا چاہیے ، اس طرح اپنا حصہ ملک کی تعمیر ترقی اور خوشحالی کے لئے ادا کرنا چا ہیے ، یہی دانشمندی کہلاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.