ریاسی حملہ: حملہ آوروں کی تلاش کے لئے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری

ریاسی حملہ: حملہ آوروں کی تلاش کے لئے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری

جموں: جموں وکشمیر کے ضلع ریاسی میں اتوار کی شام یاترا بس پر حملے کے بعد سیکورٹی فورسز نے پیر کی صبح حملہ آوروں کی تلاش کے لئے علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

بتادیں کہ ریاسی ضلع کے کانڈا علاقے میں اتوار کی شام ملی ٹنٹوں نے ایک یاترا گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 9 یاتری جاں بحق جبکہ 33 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی ریاسی موہت شرما نے پیر کی صبح جائے وقوع پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران بتایا کہ حملے کے بعد پورے علاقے میں وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے۔

انہوں نے حملے کے بارے میں بتایا کہ اتوار کی شام قریب 6 بجے یاتریوں سے بھری ایک گاڑی شیو کھوری مندر سے درشن کے بعد ریاسی کی طرف جا رہی تھی کہ کانڈا کے نزدیک ملی ٹنٹوں نے گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ڈرائیور گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور بس کھائی میں جاگری۔

انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد ملی ٹنٹ یہاں سے فرار ہوگئے تاہم جموں وکشمیر پولیس اور مقامی لوگوں نے ریسکیو آپریشن شروع کرکے یاتریوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کیا اور یہ ریسکیو آپریشن قریب آٹھ بجے شام مکمل ہوا۔

ان کا کہنا تھا: ‘اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 9 یاتری جاں بحق جبکہ 33 دیگر زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج ومعالجہ چل رہا ہے۔

تلاشی آپریشن کے بارے میں ایس ایس پی نے کہا کہ تلاشی آپریشن کے دوران ڈرونز وغیرہ کا بھی استعمال ہو رہا ہے اور ہم نے پانچ ٹیموں کو بنایا ہے، یہ جنگلی علاقہ ہے اور بلندی پر واقع ہے اور اس کی سرحد راجوری سے ملتی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ وسیع علاقے کو محاصرے میں لیا گیا اور تلاشی آپریشن جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق حملہ کرنے والوں کی تعداد 2 تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور ملی ٹنٹ راجوری اور ریاسی کے سرحدی علاقے میں چھپے ہوئے ہیں جن کی تلاشی کے لئے ڈرونز کے ساتھ ساتھ سنفر کتے بھی کام پر لگا دئے گئے ہیں۔

دریں اثنا اطلاعات کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک ٹیم بھی ریاسی پہنچی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ این آئی اے کی ایک ٹیم جائے موقع پر پہنچی ہے جو زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئےجموں وکشمیر پولیس کی مدد کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فورنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ایک ٹیم بھی جائے واردات پر پہنچ گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.