عوامی عدالت کا فیصلہ ۔۔۔۔۔۔۔

عوامی عدالت کا فیصلہ ۔۔۔۔۔۔۔

طویل ترین انتخابی عمل کے بعد ملک میں نئی حکومت کا قیام عنقریب عمل میں لایا جائے گا۔ اس حکومت کی ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام کی بہبودی کے حوالے سے کون سے نئے اقدامات ہوں گے اور نئی سرکار کا حلیہ کیا ہو گا؟ چند روز کے اندر اندر دھندلی تصویر صاف ہوجائے گی۔2014اور 2019 کے برعکس آج کے انتخابات کچھ مختلف دیکھنے کو ملے ،لہٰذا نئی حکومت کاچہرہ بھی کچھ مختلف ہو سکتا ہے۔اب کی بار” بی جے پی“ کو پوری طرح اکثریت نہیں ملی، اس جماعت کوچند ایک ساتھیوں کا سہارا ہر فیصلے پر لینا پڑے گا۔گزشتہ دس برسوں کے دوران جس طرح کے فیصلے مرکزی حکومت نے اپنے بل بوتے پر لئے ہیں، کیا آئندہ اس طرح کے فیصلے آنے والا وزیر اعظم لے سکتا ہے؟ یہ عوامی وسیاسی حلقوں میں اہم سوال ہے۔گزشہ دو دہائیوں کے دوران سرکار نے چند اہم اور تاریخی فیصلے لئے اور اس دوران وزیر اعظم کو کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کے مشورے کی ضرورت نہیں پڑی۔ہمیشہ یہ بات دیکھنے کو ملی ہے کہ جب بھی کسی ملک یا ریاست میں اپنے بل بوتے پر سرکار قائم ہوتی ہے،تو اس نے بنا کسی خوف و ڈر کے فیصلے لئے، چہ جائے کہ کچھ سیاسی حریف ناراض بھی ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی سرکار خود مختاری سے اپنی منزل کی جانب آگے بڑھتی ہے۔

اب جب کہ ملک میں کسی سیاسی جماعت کو پوری طرح اکثریت نہیں ملی وہ کس قدر ملک کے تئیں اہم فیصلے لے سکتی ہے، یہ آنے والے وقت میں پتہ چلے گا۔اب کی بار انتخابی نتائج میں چند ایسی باتیں سامنے آگئی ہیں، جو اقعی غورطلب ہیں۔جموں کشمیر کے بارمولہ انتخابی حلقے سے انجینئر رشید کی کامیابی نے تمام ملک پرست قوتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے، جو گزشتہ 5برسوں سے مبینہ فنڈنگ معاملے کے الزام میں جیل کاٹ رہے ہیں،جنہوں نے نہ صرف بطور ایم ایل اے جموں کشمیر میں” فلیگ ڈے“ منایا اور اپنی الگ پہچان بنائی بلکہ اسمبلی میں رہ کر رائے شماری کا نعرہ بھی بلند کیا۔موجودہ انتخابی نتائج کے دوران خالصتان کے حامی لیڈر امرت پال سنگھ نے بھی اپنے لوگوں کا اعتماد حاصل کر کے بھارتی پارلیمان تک جانے تک رسائی حاصل کی ۔اس طرح کے حالات اور عوامی جذبات سے ملک کے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو انتہائی سنجیدگی اور گہرائی سے سوچنا چاہیے اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے دور اندیشی سے کام لینا چاہیے اور آنے والے وقت میں ایسے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، جو جمہوری تقاضوں کے عین مطابق اپنے جائز مطالبات اور حقوق کی بازیابی کے لئے جد وجہد کررہے ہیں، اسی میں ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا راز مضمر ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.