سری نگر میں غیر مقامی شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گرد گرفتار:آئی جی کشمیر

سری نگر میں غیر مقامی شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گرد گرفتار:آئی جی کشمیر

سری نگر: انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر رینج ودھی کمار بردی نے منگل کے روز کہاکہ سری نگر کے شالہ کدل علاقے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو غیر مقامی شہریوں کے قتل میں ملوث دہشت گرد کو دھر دبوچ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
آئی جی کشمیر ودھی کمار بردی نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سری نگر کے شالہ کدل علاقے میں دو غیر مقامی شہریوں کے قتل میں ملوث کلیدی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 7فروری 2024کو نامعلوم دہشت گردوں نے شالہ کدل سری نگر میں دو غیر مقامی شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دونوں شدید طورپر زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔مہلوکین کی شناخت امرت پال سنگھ ولد سرمکھ سنگھ اور روہت ماسی ولد پارین ماسی ساکنان امرتسر کے بطور ہوئی۔
آئی جی پی کے مطابق پولیس نے معاملے کی نسبت 6/2024زیر دفعات 302,307آئی پی سی اور 7/27آرمز ایکٹ کے تحت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی۔
انہوں نے کہاکہ سری نگر پولیس نے ہیومن انٹیلی جنس اور ٹیکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کئی مشتبہ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی جس دوران ثبوت و شواہد کی بنا پر دوہرے قتل کے کلیدی ملزم عادل منظور لنگو ولد منظور احمد لنگو ساکن زالڈگر سری نگر کو دھر دبوچا گیا۔
ان کے مطابق ملزم کے قبضے سے آلہ قتل (یعنی جس ہتھیار سے اس نے فائرنگ کی)اور دوسرا قابل اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس نے بتایاکہ تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ ملزم نے پاکستانی ہینڈلر کے ساتھ مل کر دو غیر مقامی شہریوں کا قتل کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی ہینڈلر نے ملزم کو سوشل میڈیا کے ذریعے بنیاد پرستی کی طرف مائل کیا اور دہشت گردانہ حملے کو انجام دینے کی ترغیب دی۔
آئی جی پی کے مطابق منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر پاکستانی ہینڈلرنے ملزم کو ہتھیار بھی فراہم کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم ایک انتہائی متحرک بنیاد پرست ہے اور سات فروری کی شام کو اس نے شالہ کدل میں دو غیر مقامی شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دونوں کی موت واقع ہوئی۔
ڈی آئی جی سینٹرل کشمیر نے ایس پی ساوتھ کی سربراہی میں سپیشل تحقیقاتی کمیٹی کا قیام عمل میں لا کر اس کیس کو کم سے کم وقت میں حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
بتادیں کہ لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف نے سوشل میڈیاچینل کے ذریعے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.