وادی کشمیر جس سے عرف عام میں پیر ِوار کہا جاتا ہے، میں اب وہ لوگ نہیں رہیں جو اپنے اس وطن کی عزت و احترام کے خاطر اپنی زندگی دا وپر لگا کر یہاں آرہیںسیاح مہمانوں کی اس طرح مہمان نوازی کرتے تھے ،گویا وہ سیاح یہاں آکر واپس جانے کا نام یہ سوچ کر نہ لیتے تھے کہ واقعی یہ وادی ہر حال میں جنت ہے۔وادی میں لوگوں کے ذہن اس قدر تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے جارہے ہیں کہ اب یہاں لوگ اپنوں کی مدد کرنے کے بجائے اُن سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔بھائی بھائی کے خلاف سازشیں رچا رہا ہے اور فرزند اپنے والد کو چھوڑ کر انسانیت کے تمام حدود پار کر دیتا ہے اور بڑھاپے کے باوجود بھی وہ اُنہیں ”اولڈایج ہومز “میں ڈال دیتے ہیں ۔کشمیر وادی میں اپنا ایک الگ اور منفرد طرز زندگی تھی،لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار ،محبت اور ہمدردی سے پیش آتے تھے ،ایک دوسری کی بن ماننگے مدد کرتے تھے،ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر وہاں موجود بہن بیٹی اور بہو کو اپنی بہن مان کر اُس کی عزت و احترام کرتے تھے ،بزرگوں کی عزت و احترام کر کے اُن کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہیں کرتے تھے ،جس سے عام لوگ معیوب سمجھتے تھے۔لڑائی جھگڑے کے باوجود اگر ہمسایہ کے گھر میں کسی قسم کی پریشانی ہوتی تھی تو سب کچھ بھول کر انسانیت کے اصول پامال نہیں ہونے دیتے تھے اور کسی بھی مشکل گھڑی میں اُن کے گھر جاکر افراد خانہ کی دلجوئی کرتے تھے،غرض وادی کے لوگوں کا اپنا ایک الگ اور منفرد سوچ تھی جو شاید انہوں نے اپنے اسلاف سے ورثے میں حاصل کی تھی۔
آج کل وادی میں بھائی بھائی کے ساتھ معمولی چیزوں پر لڑتا جگڑتا ہے اور اس طرح ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں۔گذشتہ روز شمالی کشمیر کے سوپور علاقے میں بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کا دن دھاڑے قتل کیا اور لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔وادی کشمیر میں لوگوں کا طرز زندگی بدل چکی ہے ۔یہاں کے لوگ دنیا پرستی میں گُم ہو کر اپنے اسلاف کی تعلیمات سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔لوگ مال جائیداد اور دولت کمانے کے چکر میں اپنے اصول بھول جاتے ہیں وہ اپنے بچوں کو بڑی بڑی ڈگریاں دلوانے میں لگے ہیں ،انہیں سرکاری اور پرائیوےٹ اداروں میں نوکریاں دلانے کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں لیکن انہیں کبھی اپنے اسلاف کی تعلیمات دینے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے ہیں۔وادی کی ہر نکڑ اور ہر گلی میں مسجد تعمیر ہو رہی ہے لیکن بزرگوں کی عزت و احترام کرنے سے ہماری نسل دور ہوتی جارہی ہیں، اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ وادی کے ہرضلع میں ”اولڈ ایج ہومز“بن رہے ہیں ۔لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں لیکن پھر بھی وہ پریشان اور فکر مند ہیں ۔تعمیر و ترقی سے ہمکنار ہونا کوئی بُری بات نہیں لیکن اگر انسان کو سکون قلب اور خوشحالی نہ ملے تو وہ دولت کس کام کی ،جس کو حاصل کرنے میں ہم اپنی پوری زندگی ضائعکر دیتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پرسکون زندگی گذارے ،محنت و مشقت سے کام کریں لیکن اپنے بزرگوں کی تعلیمات سے دور نہ ہو جائے جنہوں نے ہمیں پُر سکوں اور خوشحال زندگی گزارنے کے گُر سکھائیں ہیں۔