دستکاری صنعت زندہ !

دستکاری صنعت زندہ !

قومی سطح پر دستکاری ہفتہ منایا جارہا ہے۔08دسمبر سے14دسمبر تک منانے والے اس دستکاری ہفتے کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں دستکاری میلے منعقدکئے جاتے ہیں جہاں دستکاروں کو اپنے ہاتھوں سے بنانے والے چیزوں کو رکھنے کا موقعہ مل رہا ہے اور اسطرح وہ اپنے ہاتھوں کا کمال دنیا کو دکھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔دستکاری ایک ایسی صنعت ہے جس کے ذریعے سے عام انسان بھی گھر بیٹھے اپنے چار پیسے آرام سے کما سکتا ہے اسی لئے کشمیر میں یہ محاورہ عام ہے کہ( کسب چھو حبیب اللہ) یعنی دستکار اللہ کو پیارا ہے۔پہلے ایام میں جب کسی لڑکے یا لڑکی کا رشتہ طے ہونے جاتاتھا تو دونوں جانب یہ دیکھا جاتا تھا کہ آیا دونوں کوئی کام جانے والے ہیں کہ نہیں لہذا ہنرمند کو ترجیحی دی جاتی تھی۔وادی کشمیر میں زیادہ تر لوگ ہنر مندتھے وہ اپنے ہاتھوں سے ایسے کام کرتے تھے جو واقعی دنیا کا کوئی بھی کاریگر نہیں کرتا تھا ۔اسی دستکاری کی وجہ سے کشمیریوں کو پوری دنیا میں ایک الگ اور منفرد پہچان تھی۔کشمیری قالین کی بات کرے یا پھر کشمیری شال کی،لکڑی سے تیار کئے جارہئے مختلف چیزوں کی بات کرے یا پھر پیپر معاشی کے چیزوں کی ،ان کی ایک الگ اور منفرد پہچان ہے۔

کشمیر سے دنیا کے مختلف ممالک تک کشمیرمیں تیار ہورہے دستکاری کی چیزیں سپلائی ہوتی تھی اس طرح وادی کے دستکار نہ صرف اپنی زندگی کی گاڑی چلاتے تھے بلکہ تاجروں کا ایک بہت بڑا طبقہ بھی اس دستکاری صنعت سے اچھی خاصی دولت کماتے تھے۔گذشتہ تین دہائیوں کے دوران یہ صنعت پوری طرح متاثر ہوئی ایک طرف کشمیر وادی میں سیاحوں کا آنا جانا بند ہوچکا تھا تو دوسری جانب اس صنعت کو تباہ و بُرباد کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے کشمیر ی دستکاری چیزوں کے بجائے امرتسر اور ملک کے دیگر حصوں میں تیار ہورہے چیز یںکشمیر کے نام پر فروخت کئے ۔کچھ لوگوں نے قالین ،شال اور نمدہوں کے لئے استعمال میں لائے جارہے خام مال میں ملاوٹ کی اس طرح اپنے ہی پاﺅں پر کلہاڑی مار دی۔

یہاں یہ بات بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ اکثر بیوپاری حضرات دستکار کو خاطر خواہ اُجرت نہیں دیتے تھے ،جہاں ایک طرف مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے وہیں دستکار اُتنی اُجرت حاصل نہیں کررہے تھے کہ وہ آرام سے اپنے عیال کی پرورش کر سکےں،نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے دستکاری کو چھوڑ کر کسی اور کام کو اپنا لیا۔حکومت نے جہاں دستکاری صنعت کو فروغ دینے کی غر ض سے مختلف اسکیمیں متعارف کیں تھیں وہیں متعلقہ حکام ان اسکیموںکو زمینی سطح پر عملانے میں ناکام رہے کیونکہ وہ پہلے دستکار سے رشوت مانگنے لگے جبکہ دستکار خود نان شبینہ کے لئے ترس رہا تھا۔بہرحال دستکاری کو فروغ دینے کےلئے اتنا ہی کافی نہیں کہ سرکاری سطح پر میلوں کا انعقاد کیا جائے بلکہ اُن دستکاروں تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے جو صنعت کو ابھی بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں جو آج بھی کم وقلیل آمدنی حاصل کر کے دستکاری سے جڑے ہیں جو آج بھی شال ،قالیں اور نمدہ تیار کرتے ہیں جو آج بھی چین سٹچ ،پیپر معاشی اور ووڈ کاروینگ کا کام کرتے ہیںاُن کو ہر ممکن مدد فراہم کیا جائے ،ان کے ہاتھوں سے تیار ہورہے مال کو براہ راست مارکیٹ تک لے جانے کےلئے انتظام کیا جائے اور درمیانہ داری کو ختم کیا جائے ،تب جاکر یہ صنعت زندہ رہے گی نہیں تو آنے والے وقت میں وادی سے دستکاری صنعت کا خاتمہ ہو جائےگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.