سوشل میڈیا طاقتور ہتھیار

سوشل میڈیا طاقتور ہتھیار

ٹیکنالوجی کے دور میںسوشل میڈیا ایک ایسا طاقتور ہتھیار بن چکا ہے ، جو ایٹم بم سے بھی زیادہ تباہ کنہے، جس کے غلط استعمال سے نہ صرف لوگوں کی جان چلی جاتی ہے بلکہ سماج میں بگاڑ پیدا ہونے کیساتھ ساتھ ملکوں ،مسلکوں اور مذاہب کے درمیان نفرت بھی آسانی کے ساتھ پھیلائی جاتی ہے۔شر پسند اور خود غرض عناصر سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے نہ صرف نوجوانوں کے ذہن زنگ آلودہ کرتے ہیں بلکہ دولت کمانے کے چکر میں اس کے ذریعے سے بچوں کو وہ سب کچھ سکھایا جاتا ہے جو کم عمری میں بہت زیادہ نقصان دہ ہو تا ہے۔کسی بھی سا ئنسی ترقی کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک غلط جو کہ نقصان دہ ہوتا ہے ،دوسرا مثبت ،جو کہ انسانی زندگی کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے۔

اب لوگوں کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ کس پہلو کو اپناتے ہیں۔اگر ہم وادی کشمیر کا سرسری جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ وادی کے بیشتر بچے موبائیل پر مختلف کھیل کھیلتے ہیں، جس دوران وہ نہ صرف زرکثیر ہار جاتے ہیں بلکہ ہارنے والے زیادہ تر بچے خودکشی بھی کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر سینکڑوں بچے گیم کھیلتے ہوئے حادثات کا شکار ہوئے کیونکہ انہیں ان کھیلوں کا اس قدر چسکہ لگ چکا ہوتا ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ راہ چلتے گاڑی کی زدمیں آگئے یا پھر مکان کے چھتوں سے گر کر ازجان ہو گئے۔جہاں تک سائبر کرائم کا تعلق ہے ،روزبروز ان جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سیدھے سادھے لوگوں کو بہلا پھسلا کر ان کے بینک اکاونٹ صاف کئے جاتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بینک ملازمین اور ہیکروں کے درمیان ساز باز ہوتا ہے۔حالیہ دنوں این آئی ٹی کے ایک طالب علم نے ایک ایسا بے ہودہ پوسٹ اپ لورڈکرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہچانے کی کوشش کی، اس طرح مذہبی منافرت پھیلانے کی بھرپور کوشش کی ۔

اس واقعہ کے بعد وادی کے کالجوں اور مختلف دانشگاہوں میں زیر تعلیم طلبہ نے احتجاجی جلوس نکالنے کی کوششیں کیں ۔یہ سب کچھ دیکھ کر جموں کشمیر پولیس کے سربراہ آر آر سوین نے مذکورہ نوجوان کے خلاف بروقت کارروائی کرکے اسے نہ صرف قانون کے دائرے میں لایا بلکہ اسے کالج سے ہی برخاست کیا ۔اس طرح حالات قابو میں آگئے ۔جہاں تک سوشل میڈیا کا تعلق ہے ،اس پر اگر چہ کسی کا کنڑول نہیں ہے تاہم پھر بھی حکام نے مختلف قسم کی سائبر کنٹرول سلیں قائم کی ہیں، جو دن رات نگرانی کرتے ہیں ،پھر بھی پوری طرح سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں اور ہیکروں کو کنٹرول نہیں کر پا رہے ہیں۔ ملک کی حفاظتی ایجنسیوں اور جموں کشمیر پولیس کو اس حوالے سے متحرک ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے لوگوں کی لگام پوری طرح کس لی جائے جو وادی میں فتنہ و فساد سوشل میڈیا کے ذریعے سے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور لوگوں کو پھر ایک بار تشدد کی آگ میں دکھیل دینا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.