تال میل ناگزیر ۔۔۔۔۔۔۔

تال میل ناگزیر ۔۔۔۔۔۔۔

جموں کشمیر کے لاکھوں ملازمین نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جس طرح مشکل حالات میں اپنے فرائض مختلف محکموں میں انجام دئیے ہیں ،وہ واقعی قابل قدر اور تحسین ہیں۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے، ان تیس برسوں کے دوران چند بڑے اور چھوٹے ملازمین نے سرکاری خزانے کو لوٹ کر اپنے لئے آرام و آسائش کی تمام چیزیں میسر رکھیں لیکن انہیں پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا کیونکہ آج بھی انہیں عوامی حلقوں میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔

اکثر ملازمین نے تن دہی سے کام کر کے عوام کی خدمت کی۔ملازمین کو متحد رکھنے اور اپنے جائز حقوق کی بحالی کے لئے مختلف ملازم انجمنوں نے جمہوری طور طریقے پر جدوجہد کی اور اس طرح ملازمین اور عام لوگوںکو ہر صورت میں فائدہ پہچانے میں نمایا ں کردار ادا کیا ۔اس بات سے بھی کسی کو انکار ہوسکتا ہے کہ چند ایک لیڈران نے ذاتی مفادات کو تقویت دی۔لیکن جب سے جموں کشمیر میں سیاسی تبدیلی آئی، ملازم لیڈران نے بھی خوش اسلوبی سے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔گزشتہ چند مہینوں سے ملازم لیڈران ملازمین کے بقایاجات خاصکر جی پی فنڈ کی واگزاری پر احتجاج کررہے تھے۔

ملازمت سے سبکدوش ہوئے اکثر لوگوں کو جی پی ایف واگزار نہیں ہورہا تھا جبکہ اکثر ملازمین کو ان ہی پیسوں پر عمر بھر نظر رہتی ہے کہ ملازمت سے فارغ ہوتے ہی وہ اپنے بچوں کی شادی بیاہ کر یں گے اور اُن کے بہتر مستقبل کے لئے کوئی چھوٹی موٹی تجارت شروع کریں گے۔مگر جب یہ رقم وقت پر نہ ملے تو پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔گزشتہ روز جموں کشمیر انتظامیہ نے ایک غیر معمولی فیصلہ لیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ ملازمین کے جی پی فنڈ کی واگزاری کےلئے 500کروڑ روپے مختص رکھے ہیں جو کہ ملازم طبقے خاصکر سبکدوش ہوئے ملازمین کے لئے ایک بہت بڑی خوش خبری مانی جاتی ہے۔

سرکار کے اس اقدام کو عوامی حلقوں میں نہ صرف سر اہا جارہا ہے بلکہ اس اقدام سے ملازم قیادت کے حوصلے بھی بلند ہونے لگے ہیں کیونکہ انتظامیہ نے اُن کے جائز مطالبات کو پورا کیا ۔یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ملازمین کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا بھر پور احساس کرنا چا ہیے اور بغیر کسی طوالت اور غیر ذمہ داری کے اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیناچا ہیے تاکہ عام لوگوں کو مشکلات ومسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ملازم لیڈران کی بھی یہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اپنی اپنی تنظیم کے دائرے میں کام کررہے ملازمین کو ڈیوٹی کا پابند بنائیں اور وقت وقت پر ان کی کونسلنگ بھی کرنی چا ہیے تاکہ وہ حقیقی معنوں میں عوامی خدمتگار بن سکیں۔یہاں حکومت اور انتظامیہ پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ملازمین کے حقوق کا بھی خیال رکھے اور کبھی کبھی ملازم انجمنوں کے لیڈران اور ذمہ داروں سے گفت و شنید کرے تاکہ ایک بہتر تال میل ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان قائم ہوسکے جو کہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.