عارضی ملازمین کا مستقبل ؟۔۔۔۔۔۔۔

عارضی ملازمین کا مستقبل ؟۔۔۔۔۔۔۔

دفعہ 370کے خاتمے کے بعد جموں کشمیر کے عوام میں یہ اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ مرکزی سرکار اب جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ ان لاکھوں ڈیلی ویجروںاور کیجول لیبر ملازمین کی نوکری مستقل کرے گیجن کے بدولت جموں کشمیر میں انتظامی کام کاج چلتا ہے۔

مختلف محکموں میں کام کر رہے یہ ڈیلی ویجر اور کیجول لیبرموسمی تبدیلیوں اور پُر تشدد حالات کو درکنار کرتے ہوئے گزشتہ تین دہا ئیوں سے اپنی خدمات بہتر ڈھنگ سے انجام دے رہے ہیں اور باوجو د اس کے انہیں آٹے میں نمک کے برابر اُجرت دی جاتی ہے۔یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مختلف محکموں میں کام کر رہے ان ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبر ملازمین میں بہت سارے لوگ غلط طریقے سے بھرتی کئے گئے ہیں لیکن اس غلطی کی سزا ان افسران اور سیاستدانوں کی بجائے اُن ملازمین کو دی جائے ،جن کے کاغذات اور بھرتی آرڈر درست ہیں،سرا سر ناانصافی ہے۔

محکمہ جل شکتی،محکمہ بجلی اور دیگر اہم اداروں میں کام کررہے، ان ہزاروں افرد کے مستقبل کے ساتھ اس طرح کا برتاﺅ سرا سر کھلواڑ ہے۔اگر چہ سرکار نے ان ڈیلی ویجروں کی اُجرت میں اضافہ کیا تاہم محکمہاینیمل ہسبنڈری اور جنگلات میں ایسے سینکڑوں افراد اب بھی موجود ہیں، جنہیں صرف 3300روپے ماہانہ اُجرت دی جاتی ہے جبکہ مہنگائی کے اس زمانے میں وہ خود ان پیسوں سے دو وقت کی روٹی حاصل نہیں کر پائیں گے ، رہا اہل و عیال پالنے کا سوال وہ ممکن ہی نہیں ہے۔

ہر دور میں حکمرانوں نے ان ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کے ساتھ یہ مذاق کیا ہے کہ عنقریب انہیں مستقل کیا جائے گا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی حکمران اور اہل اقتدار بھول جاتے ہیں۔پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے دور اقتدارمیں ان ہزاروں افراد کے ساتھ کیا کچھ ہو ا سب کے سامنے عیاں ہے۔

لیکن موجودہ ایل جی انتظامیہ کے ساتھ اس طرح کی اُمید ہرگز نہیں تھی کہ یہ بھی ان افرد کے ساتھ وہی سلوک روا رکھے جو سابقہ حکومتوں کا رہا ہے ۔جموں کشمیر کے یہ ہزاروں افراد بار بار سڑکوں پر نکل کراپنا مطالبہ دہرا تے ہیں لیکن یہ بھی نقار خانے میں طوطے کی آواز کے مترادف بن جاتی ہے اورکوئی خاطر خواہ قدم نہیں اُٹھایا جارہا ہے۔

اب جبکہ وادی میں حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ہر جانب تعمیر و ترقی کا نعرہ بلند ہو رہا ہے، ایل جی انتظامیہ کو مرکزی سرکار کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھانا چا ہیے اور ان ہزاروں گھرانوں کو آباد کرنا چاہیے جو یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک نہ ایک دن اُن کے پالنے والے ان ڈیلی ویجروں اور محنت کش کیجول لیبروں کی محنت رنگ لائے گی اور ان کی نوکری مستقل کی جائے گی جو سردی گرمی ،برف بارش اور پُرتشددحالات میں بھی اپنا کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.