جمہوریت ملک کی پہچان

جمہوریت ملک کی پہچان

لداخ خود مختار پہاڑی کونسل۔کرگل کے انتخابات کے نتا ئج کل یعنی 8اکتوبر کو سامنے آئیں گے۔ووٹوں کی گنتی صبح 8بجے سے شروع ہوگی اور دوپہر تک تمام حلقوں کے نتایج سامنے آنے کی اُمید ہے۔یہ پہلا موقع ہے، جب جموں کشمیر سے لداخ کو الگ کر کے یونین ٹریٹری میں تبدیل کیا گیا اور وہاں انتخابات عمل میں لائے گئے۔موجودہ مرکزی سرکار کا ہمیشہ سے یہ کہنا تھا کہ لداخ کو جموں کشمیر سے الگ کر کے ملک کے اُس خطے کی تعمیر و ترقی یقینی بن جائے گی۔بقول مرکزی لیڈران جموں کشمیر کے حکمران اس خطے کے ساتھ ناانصافی کرتے آئے ہیں اور لداخ خطے کے لوگوں کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ انہیں جموں کشمیر سے الگ کیا جائے۔

جہاں تک لداخ خود مختار پہاڑی کونسل۔کرگل انتخابی نتائجکا تعلق ہے ،یہ مرکزی سرکار کے لئے انتہائی اہم مانے جاتے ہیں کیونکہ ان انتخابی نتائجسے نہ صرف لوگوں کی رائے سامنے آئے گی بلکہ اس خطے کی اکثریت مرکزی فیصلے سے خوش ہے کہ نہیں، یہ تصویر بھی صاف ہوجائے گی۔اس کونسل کے لئے کل ملا کر85اُمید وار میدان میں ہیں جن میں کانگرس کے 22این سی کے 17بی جے پی کے 17عام آدمی پارٹی کے 4باقی بطور آزاد امیدواروں کی حیثیت سے انتخابی میدان میں ہیں۔ یہ انتخابات پوری جموں کشمیر کے سیاسی منظر نامے کی منظر کشی بھی کریں گے،کہ آیا آنے والے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری رہے گا اور جموں کشمیر میں کون سی سیاسی جماعت بازی مار سکتی ہے۔

دانشور طبقے اور سیاسی پنڈتوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ ان انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بھی واضح ہو جائی گی۔ آخر عام لوگ کس طرح کی سیاست پسند کرتے ہیں۔برحال ان انتخابی نتائج کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،اس کا پتہ بھی8اکتوبر کی شام تک چلے گا ۔تاہم یہ انتخابی نتائججموں کشمیر اسمبلی اور آئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں غالب رہیں گے۔بہر حال ملک کی جمہوریت کا ہمیشہ سے یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ یہاں کون سی سیاسی جماعت انتخابات میں بازی مارتی ہے، اُس کی جانب نہیں دیکھا جاتا ہے بلکہ اپنے مقررہ وقت پر انتخابات ہو تے ہیں ۔

جہاں تک جموں کشمیر کا تعلق ہے یہاں مسئلہ کچھ اور تھا، یہاں سیاسی ہار جیت سوال نہیں ہے بلکہ یہاں معاملہ ملک کی سالمیت کا تھا ۔یہاں علحیدگی پسندی کا عنصر آگے بڑھ رہا تھا۔لہٰذا مرکزی حکومت کو سخت اقدامات اُٹھانے بے حد ضروری تھے، جس کے لئے طویل وقت بھی درکار تھا ۔اب حالات بہتر بن چکے ہیں لہٰذا مرکزی سرکار کو جموں کشمیر میں اب اسمبلی انتخابات منعقدکرانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چا ہیے نہ ہی لداخ پہاڑی کونسل کے نتائج آڑے آنے چاہیے۔جتنی جلد ممکن ہو سکے یہاں انتخابات عمل میں لانے چاہیے اور جمہوری نظام کو مضبوط کرنا چاہیے جو اس ملک کی پہچان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.