بدھ, فروری ۲۵, ۲۰۲۶
6.3 C
Srinagar

حقوق العباد میں بخل کیوں۔۔۔؟

رمضان المبارک کے آخری عشرہ چل رہا ہے اور لوگ جوق در جوق مساجد،خانقاہوں اور امام باڑوں میں عبادت کرنے کے لئے جاتے ہیں اور رب العالمین کی بار گاہ میں اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں ۔جہاں تک خالق کائنات کا تعلق ہے، انہوں نے آدم کی تخلیق اسی غرض سے کی ہے کہ وہ دوسرے انسان کی مدد کر کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کریں۔جہاںتک عبادت خُداوندی کا تعلق ہے اس حوالے سے ملائکہ نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی، وہ دن رات اللہ کی تسبیح اور حمد و ثنا کرتے تھے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جب تخلیق آدم ہورہی تھی، وہ یعنی ملائکہ اُس میں آڑے آرہے تھے اور اللہ کو اُنہیں منانے کے لئے سوال و جواب کا اہتمام کرنا پڑا اور ملائکہ سے مختلف پھلوں اور سبزیوں کے نام دریافت کرنے پڑے جو کہ اُن کے علم میں نہیں تھے، اس کے برعکس جب آدم ؑسے ان پھلوں اور سبزیوں کے نام پوچھے گئے، تواُس نے بغےر کسی رکاوٹ کے سب چیزوں کے نام بتا دیئے، اس طرح ملائکہ اللہ کے سامنے لاجواب ہوگئے ۔

ان ہی باتوں کو مد نظر رکھ کر شاعر مشرق علامہ اقبال نے فرمایا ہے۔(درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ،،،،،،ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں)۔غرض جب حضرت آدم کی تخلیق کا معاملہ سامنے رکھا جاتا ہے، تو اُس کا سب سے بڑا کام ایک دوسرے کی مدد کرنا تھا۔جہاں تک موجودہ دور کا تعلق ہے، آج کل کا عام انسان صرف اور صرف اپنی فکر میں لگا ہے وہ دوسروں کے بارے میں زرا بھر بھی نہیں سوچتا ہے، بلکہ کوئی مدد کرنے کی بجائے اُسی سے ہی ظلم و زیادتی روا رکھتا ہے۔جہاں تک اُمت مسلمہ کا تعلق ہے ،وہ علم و عرفان سے باخبرہہے ،لیکن پھر بھی اس پر عمل نہیں کرتا ہے۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا خون بہاتا ہے۔اےک دوسرے کا حق مارتا ہے اور اےک دوسرے کے خلاف سازشیں رچاتا ہے یہ پتاہونے کے باوجود کہ اُس کی بناوٹ اور تخلیق اُ س کی مد د کے لئے ہوئی ہے۔صدقہ اور زکواة کا کوئی تصور ہی نہیں ہے،ایک دوسرے سے ہمدردی اور محبت کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔بہن ،بھائی اور باپ بیٹھے کا رشتہ صرف روپے پیسے کا رہا ہے ۔ذات پات،رنگ و نسل کی بنا پر موجودہ دور کا انسان تقسیم ہو چکا ہے۔

بدکاری ،بے راہ روی،نشہ آوری ،دھوکہ دہی عرج پر ہے۔ایک دوسرے کا مال و جا ئیداد ہڑپ کرنا معمول بن چکا ہے۔رشوت خوری ،منافع خوری عروج پر ہے ۔اس سب کے باوجود مسلم ہونے کا دعویٰ کرنے والے مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں جاکر زور دار انداز میں مالک کائنات سے امن و آشتی ،خوشی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعائیں مانگتے ہیں جب کہ اللہ کے دیئے ہوئے علم پر کوئی عمل نہیں کرتے ہیں ،جو مخلوق کی نسبت سے لازمی اور بے حد ضروری ہے جن کے انجام دینے سے پوری دُنیا میں غفلت اور غربت کی تاریکیاں دور ہو سکتی ہیں اور امن و خوشحالی کا بول بالا ہو گا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جس کی تلاش میں موجودہ دور کے حکمران اورعام انسان ہے۔اللہ کرے ہم میں عبادت خدا وندی کے ساتھ ساتھ انسانوں کے حقوق ادا کرنے کا سلیقہ پیدا ہو۔

Popular Categories

spot_imgspot_img