ہفتہ, اپریل ۱۱, ۲۰۲۶
15.3 C
Srinagar

بارش ،پانی اور مسائل ۔۔۔


شوکت ساحل

وادی کشمیر بالخصوص سری نگر میں درمیانی شب سے زور دار بارشیں ہوئیں جس سے کئی علاقوں میں سڑکیں اور گلی کوچے زیر آب آگئے اور بعض علاقوں میں لوگوں کو عبور ومرور میں شدید ترین مشکلات درپیش ہیں ۔

اسکول جانے والے بچوں کو بھی مسائل کا ہی رہا ۔بارشیں ہونے کے بعد سڑکیں ،بازار اور گلی کوچوں میں پانی جمع ہونا کوئی نہیں بات نہیں بلکہ وادی میں معمول بن چکا ہے اور لوگوں کو بھی اب زیر آب سڑکوں ،گلی کوچوں سے چلنے پھرنے کی عادت سی ہوگئی ۔

ناقص ڈرینج نظام بارش کے پانی کا سڑکوں اور گلی کوچوں میں جمع ہونے کی بنیادی وجہ ہے جبکہ معمولی بارشوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ڈرینج سسٹم کس قدر صحیح ہے۔سڑکوں اور گلی کوچوں میں اس قدر پانی جمع ہوتا ہے کہ بچوں، بزرگوں اور خواتین کا پیدل سفر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ پر خطر بھی ہے۔

انتظامیہ بار بار دعوے کرتی آ رہی ہے کہ انہوں نے سرینگر اور دیگر قصبوں میں پانی کی نکاس کیلئے کئی اسکیموں کے تحت کروڑوں روپے کے ڈرنیج سسٹم تعمیر کئے ہیں، تاہم زمینی سطح پر سرکار کے دعوے سراب ثابت ہو رہے ہے۔کشمیر میں ناقص ڈرینیج سسٹم کی وجہ سے نظام زندگی درہم برہم ہوتا ہے ۔

شہر سرینگر میں 80 مقامات ایسے ہیں ،جہاں معمولی بارش یا برف سے ’واٹر لاگنگ‘ ہوتی ہے۔وہیں سرینگر کی اکثر بستیوں کی رابطہ سڑکوں پر بھی پانی کے نکاس کیلئے ڈرینیج سٹم ناکارہ ثابت ہو رہا ہے۔

پانی کے نکاس کیلئے انتظامیہ ڈی واٹرنگ پمپس کو بروئے کار لایا جاتا ہے ۔ڈرینیج سسٹم کے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ سرینگر میں 1400کلو میٹر کی ڈرینیج سسٹم درکار ہیں، جو پانی کے معقول نکاس کر سکتی ہیں۔

وہیں قصبہ جات میں بھی ڈرینیج سسٹم نہ ہونے سے واٹر لاگنگ کی شکایتیں عوام کی طرف سے کی جاتی ہیں۔ایسا نہیں کہ حکومت منصوبہ ترتیب نہیں دیتی بلکہ منصوبے ترتیب دئے جاتے ہیں ،لیکن منصوبے طویل مدتی نہیں بلکہ قلیل مدتی ہوتے ہیں ،جسکی وجہ سے بارشوں کے پانی سے راحت کی بجائے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔

مرکزی حکومت نے بارشوں کا پانی ذخیرہ کرنے اور اسے زرعی مقاصد کے لئے استعمالمیں لانے کے لئے ایک اسکیم بھی مرتب کی ۔

ملک بھر میں یہ اسکیم لاگو ہوچکی ہے جبکہ جموں وکشمیر میں بھی یہ اسکیم فعال ہے ۔مرکزی وزارت دیہی ترقی بارش کے پانی پر منحصر / کم درجہ والی زمینوں کی ترقی کے لیے مرکزی امداد یافتہ اسکیم، پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے واٹر شیڈ بنانے والے جز (ڈبلیو ڈی سی۔پی ایم کے ایس وائی) کو نافذ کرتا ہے۔

تاہم، ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یو ٹی) کے خشک سالی والے علاقوں میں زراعت کی ترقی کے لیے رقم مختص کرنے کی کوئی بھی مخصوص اسکیم ڈی او ایل آر کے ذریعہ نافذ نہیں کی جا رہی ہے۔

ڈی او ایل آر نے انٹیگریٹیڈ واٹر شیڈ مینجمنٹ پروگرام (آئی ڈبلیو ایم پی) کے تحت جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقریباً 39.07 ملین ہیکٹیئر رقبہ پر محیط 8214 واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے۔

اس اسکیم کے تحت جموں وکشمیر کے بیس اضلاع میں کئی واٹر شیڈ یا پانی کے تالاب تعمیر کئے گئے اور کئی اب بھی زیر تعمیر ہیں ،میں بارشوں کا پانی جمع کیا جاتا ہے تاکہ یہ صحیح مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جاسکے ۔

اب ضرورت یہ ہے کہ اس اسکیم کو وسعت دی جائے ۔ضلع سرینگر اور قصبہ جات میں بھی بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرکے صحیح مقاصد کے لئے استعما ل کیا جائے ،کیوں یہ وقت کا تقاضا بھی ہے ۔

کیا معلوم بدلتے ماحولیاتی نظام میں مستقبل میں پانی کی ضرروت حد سے زیادہ پڑے جبکہ شہر سرینگر اور قصبہ جات میں ڈرنیج سسٹم کو موثر بنانے کے لئے طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہے ۔کیوں کہ دنیا بدل رہی ہے ۔

 

Popular Categories

spot_imgspot_img