دفعہ 370کی سالگرہ

دفعہ 370کی سالگرہ

دفعہ 370کے خاتمے کو کل تین سال مکمل ہوگئے اور اس سالگرہ کو سرکاری وغیر سرکاری سطح پر مختلف تقاریب کے ذریعہ منایا گیا ۔

گذشتہ 3برسوں کے حالات وواقعات ،تعمیر وترقی اور عوامی خوشحالی کا جائزہ لیا گیا ،ہر انسان دفعہ 370کے خاتمے اور جموں وکشمیر کی تقسیم اور اسے مرکزی زیر انتظام علاقہ قرار دینے سے متعلق اپنے نظرے اور اپنے زاﺅے سے دیکھ رہا ہے لیکن حقیقی طور اگر جائزہ لیا جائے تو بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئیں اور کہیں کہیں ایسی خامیاں اب بھی نظر آرہی ہں، جو سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہیں ۔

جموں وکشمیر ،یوٹی میں تبدیل ہونے کے بعد درجنوں مرکزی اسکیمیں براہ راست زمینی سطح پر عملائی گئیں ۔ہیلتھ سیکٹر کو بنیادی سطح پر بہتر بنایا گیا ،لگ بھگ 90فیصدعوام کو گولڈن کارڈ فراہم کیا گیا ، جن پر بیمار 5لاکھ تک کا مفت علاج کراسکتے ہیں ۔

بچوں کی سکالر شپ میں اضافہ کیا گیا ،جس کی وجہ سے غریب اور پسماندہ لوگوں کے بچے بڑی آسانی سے تعلیم وتربیت حاصل کر سکتے ہیں ۔

بجلی ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ۔پتھر بازی اور تشدد کے گراف میں نمایاں کمی آگئی ،سیاحتی شعبے کو موثر اور مضبوط بنانے کیلئے کئی اسکیمیں عملا ئی گئیں ۔

ایڈونچر ٹورازم کو بڑھاﺅا دیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس جموں وکشمیر خاصکر وادی کشمیر میںسرکاری نظام تہس نہس ہو گیا تھا او ر اُس نظام کو بہتر بنانے میں برسوں لگ جائیں گے ،بے روزگاری روزبروز بڑھتی جا رہی ہے ،کرپشن کے دوسرے طریقے ڈھونڈ لئے گئے ،سرکاری ملازمتوں کی بجائے اب اﺅٹ سورس بنیادوں پر ملازمین کا استحصال ہو رہا ہے ،درمیانہ داری کو اس اقدام سے بڑھاوا مل گیا ،سرکاری زمین وجائیدادوں پر ابھی بھی اثر ورسوخ رکھنے والے لوگ اور سرمایہ دار قابض ہیں ،برسوں سے کام کررہے ڈیلی ویجر ابھی بھی اس اُمید پر جی رہے ہیں کہ ان کی نوکری مستقل ہو گئی ،لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ۔

کسی بھی بدعنوان سیاسی لیڈر کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے بند نہیں کیا گیا ۔زمینی سطح پر ایسے لوگوں کو سپورٹ نہیں مل رہا ہے، جنہوں نے عام لوگوں کی خوشحالی ،تعمیر وترقی اور ملک کی سالمیت وبقاءکی خاطر اپنا قیمتی وقت صرف کیا ۔

ان تمام ضروری معاملات کی جانب مرکزی اور جموں وکشمیر انتظامیہ کو غور کرنا چاہیے تاکہ جس مدعا ومقصد کی خاطر دفعہ 370کا خاتمہ کیا گیا تھا ۔زمینی سطح پر اُسکا فائدہ عوام کو مل سکے تاکہ لوگ یاد ماضی چھوڑ کر تابناک مستقبل کی جانب بڑھ جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.