ایل او سی پر مارے گئے جنگجوؤں سے افغانستان میں پائے جانے والے ہتھیار بر آمد: جی او سی ڈگر ڈویژن

ایل او سی پر مارے گئے جنگجوؤں سے افغانستان میں پائے جانے والے ہتھیار بر آمد: جی او سی ڈگر ڈویژن

سری نگر،19 فروری : فوج کی ڈگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل اجے چند پو ریا کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر مارے گئے جنگجوؤں سے بر آمد ہونے والے ہتھیار یہاں عام طور پر نہیں دیکھے گئے ہیں۔
انہوں نے ساتھ ہی کہا یہ ہتھیار افغانستان میں پائے گئے تھے جب وہاں سے امریکی فوج کا انخلا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ آنے والے وقت میں نہ صرف ملی ٹنٹ بلکہ یہ ہتھیار بھی کشمیر میں آسکتے ہیں۔

موصوف جی او سی نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ایک خبر رساں ادارے کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد کے باوجود بھی لائن آف کنٹرول پر در اندزی کی کوششیں کی گئیں لیکن ان کو ناکام بنا دیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا: ’ایل او سی پر در اندازی کے دوران مارے گئے جنگجوؤں سے جو اسلحہ و گولہ باردو بر آمد کیا گیا وہ یہاں عام طور پر نہیں دیکھا گیا ہے یہ ہتھیارافغانستان میں موجود تھے جب امریکی فوج وہاں سے نکلی تھی‘۔انہوں نے کہا: ’ ہمارا اندازہ ہے کہ آنے والے وقت میں نہ صرف ملی ٹنٹ بلکہ یہ ہتھیار بھی کشمیر میں آسکتے ہیں‘۔
موصوف فوجی جنرل نے کہا کہ جب افغانستان میں امریکی فوج موجود تھی تب حالات الگ تھے۔
انہوں نے کہا: ’اب چونکہ امریکی فوج افغانستان سے نکلی ہے تو وہاں کے دہشت گرد پاکستان کے اندر آسکتے ہیں اور وہ پھر لائن آف کنٹرول کی طرف آنے کی کوشش کرسکتے ہیں‘۔

مسٹر چند پوریا نے کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق سر حد کے اس پار لانچنگ پیڈس پر ایک سو سے ایک سو تیس کے قریب جنجگجو موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہاں جو تربیتی سینٹر بند ہوگئے تھے وہ اب دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔
موصوف جی او سی کا کہنا تھا کہ وادی میں ڈیڑھ سو سے دو سو کے قریب جنگجو موجود ہیں ان میں سے 40 سے45 فیصد جنگجو پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہا: ’ان میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جنہیں برین واش کیا جاتا ہے اور گرینیڈ لگانے اور پستول سے فائرنگ کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، ان کو ہم ہائی برڈ ملی ٹنٹ کہتے ہیں‘۔
مسٹر چند پوریا نے کہا کہ شمالی کشمیر کی صورتحال لگ بھگ معمول پر ہے جنگجوؤں کی بھرتی بہت کم ہوگئی ہے اور ان کی تعداد میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے۔

یو این آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published.