مانیٹرنگ ڈیسک
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں منگل کے روز ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز کے مطابق بظاہر نہ ہی تجربہ کار وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ دوسری جانب انتخابات میں شامل دو عرب جماعتوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ انھیں ریکارڈ 18 یا 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
اسرائیل میں منگل کے روز ہونے والے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز جو تصویر سامنے آ رہی ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ نہ ہی تجربہ کار وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ گاڈی آئزنکوٹ پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
دو اسرائیلی نشریاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق آئزنکوٹ کی یشار پارٹی اور ان کے ’تبدیلی اتحاد‘ میں شامل تین دیگر یہودی اپوزیشن جماعتیں 120 رکنی کنیسٹ میں 51 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔ اسی طرح نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور قدامت پسند مذہبی یہودی اتحادیوں کے بھی 51 نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ایک تیسرے نشریاتی ادارے کے ایگزٹ پول میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تین نشستوں کی برتری دی گئی ہے۔
اب کافی کچھ دو عرب جماعتوں پر منحصر ہوگا، جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ریکارڈ 18 یا 19 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔منگل کو ووٹنگ میں عوامی شرکت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر رہی۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے پولنگ ختم ہونے پر ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد تھا، جو 1999 کے بعد اس وقت تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے زیادہ تناسب ہے۔
سرکاری نتائج رات تک آنا شروع ہو جائیں گے، تاہم تقریباً 6 لاکھ غیر حاضری میں ڈالے گئے ووٹ، جو زیادہ تر فوجی اہلکاروں کے ہیں ہیں اور کل ووٹوں کا لگ بھگ 10 فیصد بنتے ہیں، جمعرات تک مکمل طور پر شمار نہیں کیے جائیں گے۔

حتمی نتائج کی تصدیق اور تمام سیاسی دھڑوں سے مشاورت کے بعد، اسرائیل کے صدر اس جماعت کے رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انھیں لگے گا کہ وہ حکومتی اتحاد تشکیل دینے کے لیے سب سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔اگر وہ رہنما حکومت بنانے میں ناکام رہے تو بالآخر دوبارہ انتخابات کروانا پڑیں گے۔
ریکارڈ ٹرن آئوٹ
- حتمی ووٹر ٹرن آؤٹ: میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی سنٹرل الیکشن کمیٹی نے بتایا کہ عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد تک پہنچ گیا۔
- تاریخی حیثیت: سنٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق، 1999 کے بعد پولنگ کے اختتام پر ریکارڈ کیا جانے والا یہ سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے۔
- کل ووٹرز کی تعداد: پولنگ ختم ہونے تک 56 لاکھ 95 ہزار 682 ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔





