ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
17.8 C
Srinagar

موسمی انفلوئنزا ویکسین کی فراہمی میں تاخیر، محکمہ صحت کے ملازمین کا الزام

سری نگر: جموں و کشمیر میں موسمی انفلوئنزا کی ویکسین مبینہ طور پر سیزن کے آخری مرحلے میں صحت کے مراکز تک پہنچ رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے ملازمین نے الزام عائد کیا ہے کہ ویکسین کی سپلائی اکتوبر کا مہینہ شروع ہونے کے بعد پہنچتی ہے، حالانکہ حفاظتی ٹیکہ کاری کا عمل ماہ کے پہلے ہفتے میں شروع ہونا چاہیے۔

محکمہ صحت کے ملازمین اور ذرائع سے موصولہ معلومات کے مطابق، موسمی انفلوئنزا ویکسین کی دستیابی میں تاخیر سے ویکسینیشن کے مناسب وقت اور انفلوئنزا کے کیسوں میں موسمی اضافے سے نمٹنے کے لیے صحت کے مراکز کی تیاری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ملازمین نے خبر رساں ادارے کشمیر نیوز ٹرسٹ (کے این ٹی) کو بتایا کہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ موسمی انفلوئنزا کے خلاف ویکسینیشن شروع کرنے کے لیے ایک اہم مدت تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق، ویکسین کی سپلائی بروقت صحت کے اداروں تک پہنچنی چاہیے تاکہ طبی عملہ بغیر کسی تاخیر کے ویکسینیشن کا عمل شروع کر سکے۔ملازمین نے الزام لگایا کہ ویکسین اکثر اکتوبر کا مہینہ گزرنے کے بعد ہی پہنچتی ہے، جس سے بروقت ویکسینیشن کے لیے دستیاب وقت کم ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تشویش صرف ویکسین کے ذخیرے کی آمد میں تاخیر تک محدود نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ضرورت پڑنے پر صحت کے مراکز ویکسین کی خوراکیں دینے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ ملازمین کے مطابق، ویکسین کی بروقت فراہمی سے اداروں کو ویکسینیشن کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے، اہل افراد کو مطلع کرنے اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے عمل کو منظم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

موسمی انفلوئنزا سانس کی ایک بیماری ہے، جو خاص طور پر معمر افراد، حاملہ خواتین، چھوٹے بچوں اور بعض بنیادی طبی مسائل میں مبتلا افراد کے لیے سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ویکسینیشن اس بیماری سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم ویکسین لگانے کی مہم کا وقت مقامی سطح پر بیماری کے پھیلاؤ کے رجحانات، ویکسین کی دستیابی اور صحت کے حکام کی جانب سے جاری کردہ سرکاری ہدایات پر منحصر ہو سکتا ہے۔

ملازمین نے خدشہ ظاہر کیا کہ ویکسین کی فراہمی میں تاخیر سے ویکسینیشن کی سرگرمیوں پر بروقت عمل درآمد متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ ویکسین کی خریداری اور تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین صحت کے اداروں تک ویکسینیشن کے مقررہ دورانیے سے پہلے پہنچنی چاہیے، نہ کہ اس عمل کے شروع ہونے کے بعد۔

ملازمین نے کہا کہ حکام کو ویکسین کی فراہمی کے شیڈول کو طے شدہ ویکسینیشن پروگرام کے مطابق یقینی بنانا چاہیے، تاکہ جس مدت میں ویکسینیشن شروع ہونے کی توقع ہو، اس دوران صحت کے اداروں کو ویکسین کے ذخیرے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

ملازمین نے موسمی انفلوئنزا ویکسین کی بروقت تقسیم اور سپلائی کے نظام کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ آئندہ موسموں میں اس طرح کی تاخیر سے بچا جا سکے۔

کے این ٹی

Popular Categories

spot_imgspot_img