جمعہ, اکتوبر 16, 2026
17.3 C
Srinagar

متحدہ مجلس علماء کا کشمیر وادی، جموں، و ادی چناب، کرگل اور لیہہ میں پہلی بار مشترکہ خطبۂ جمعہ کا اہتمام

ایمان کو تمام شریک مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں پہلے مشترکہ موضوع کے طور پر منتخب کیا گیا؛
 میرواعظ نے چرار شریف میں ایمان کے تحفظ اور استقامت پر زور دیا

سرینگر: مذہبی شعور کو مستحکم کرنے اور ملت کو درپیش اہم مسائل سے متعلق اجتماعی بیداری پیدا کرنے کی اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر نے آج یعنی جمعہ کو کشمیر وادی، جموں، وادیٔ چناب، کرگل اور لیہہ کی شریک مساجد، خانقاہوں اور امام بارگاہوں میں پہلی بار بیک وقت مشترکہ خطبۂ جمعہ پیش کیا۔ اس سلسلے میں ایمان کو پہلے مشترکہ موضوع کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔

ایک بیان کے مطابق یہ پہل متحدہ مجلس علماء کی جانب سے 15 ستمبر کو منعقدہ علماء کانفرنس میں لیے گئے فیصلوں کی روشنی میں کی گئی ہے، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء اور نمائندوں نے اہم دینی و سماجی مسائل پر مشترکہ طور پر کام کرنے، مقررہ موضوعات پر خطباتِ جمعہ دینے، ضلعی سطح پر رابطہ مہم چلانے اور معاشرے میں مسلسل بیداری پیدا کرنے کے لیے عملی منصوبے مرتب کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس مہم کے تحت میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے آج چرار شریف میں حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ، علمدارِ کشمیر کی تاریخی خانقاہ میں خطبۂ جمعہ دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ایمان کے تحفظ اور اپنے عقیدے و اصولوں پر ثابت قدم رہنے کی اہمیت پر زور دیا، خصوصاً ایسے حالات میں جب انسان کو دنیاوی لالچ، دباؤ اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہو۔
میرواعظ نے بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایمان محض زبانی اقرار کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مومن کی پوری زندگی کی بنیاد ہے، جس کا اظہار اس کے کردار، طرزِ عمل، فیصلوں اور دوسروں کے ساتھ معاملات میں ہوتا ہے۔
قرآن مجید کی اس ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اس نور پر ایمان لایا جائے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، میرواعظ نے کہا کہ یہ ایمان کی بنیادی اساسات ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان انسان کے اندر جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ کی پیروی اخلاقی اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے، جبکہ قرآن مجید انسان کو حق اور راست بازی کی راہ دکھاتا ہے۔
میرواعظ نے خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا کہ ایمان ایک مومن کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی امانت ہے، جس پر کسی بھی دنیاوی مفاد کے لیے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید کی اس تنبیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو حقیر دنیاوی مفاد کے عوض فروخت نہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ دولت، منصب، اثر و رسوخ، ذاتی منفعت یا دنیاوی فائدے کی کوئی بھی مقدار انسان کے ایمان، ضمیر اور اصولوں سے دست بردار ہونے کا جواز فراہم نہیں کر سکتی۔
میرواعظ نے کہا، ’’ایک مومن دنیا میں رہتے ہوئے اس کے جائز مواقع سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے، لیکن اسے کبھی بھی اپنے ایمان کی قیمت پر دنیاوی مفادات حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایمان کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حق اور ذاتی مفاد، اصول اور مصلحت، یا ضمیر اور دباؤ ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوں۔
استقامت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ایمان کا اقرار کرنا محض آغاز ہے، جبکہ بدلتے ہوئے حالات اور مشکلات کے باوجود اس پر ثابت قدم رہنا ہی اس کا حقیقی امتحان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ استقامت کا مطلب سخت گیری یا محاذ آرائی نہیں، بلکہ حکمت، صبر، وقار اور اخلاقی جرأت کے ساتھ حق اور اصولوں پر قائم رہنا ہے۔
نوجوان نسل کو درپیش چیلنجوں، بالخصوص مادہ پرستی، سوشل میڈیا کے غلط استعمال، اخلاقی الجھنوں اور دینی شعور میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میرواعظ نے والدین، اساتذہ، علماء اور دینی اداروں پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کے ایمان کے تحفظ اور اس کی آبیاری کو اپنی مشترکہ ترجیح بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے کہ وہ سوالات کریں اور علم، فہم و ادراک اور شفقت کے ذریعے اپنی دینی رہنمائی حاصل کریں۔
متحدہ مجلس علماء کی اس وسیع تر مہم کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ایمان کو پہلے مشترکہ موضوع کے طور پر دانستہ طور پر منتخب کیا گیا، کیونکہ ایمان ہی وہ بنیادی رشتہ ہے جو مسلکی اور مذہبی تشریحات کے اختلافات سے بالاتر ہو کر امت مسلمہ کو متحد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منبر ایک امانت ہے اور علماء و ائمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اس دیانت داری، استقامت اور اصول پسندی کا عملی نمونہ پیش کریں جس کی تلقین وہ دوسروں سے کرتے ہیں۔ منبر کو ایمان مضبوط کرنے، معاشرے کی رہنمائی کرنے اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے باہمی اختلافات اور تفرقے کو فروغ دینے کا ذریعہ بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں ایمان کے تحفظ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایمان اور ہمارے دینی اداروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کوششوں کو ناکام بنانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں اور باہمی اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھیں۔
حضرت شیخ العالمؒ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اس عظیم بزرگ اور برگزیدہ ولی نے توحید، ایمان، تزکیۂ نفس اور اخلاقی ذمہ داری کا پیغام اہلِ کشمیر تک ان کی اپنی زبان میں پہنچایا۔ ان کی تعلیمات اور شُرک (ارشاداتِ منظومہ) کشمیر کے منفرد اسلامی اور ثقافتی ورثے کا ایک قیمتی حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ العالمؒ کی تعلیمات سے وابستگی ہماری مادری زبان کے ساتھ رشتے کو مضبوط بنانے، اسے محفوظ رکھنے اور اپنی زندگیوں میں فروغ دینے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
میرواعظ نے کہا کہ حضرت شیخ العالمؒ کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف ان کی یاد منانے میں نہیں، بلکہ ان کی تعلیمات پر عمل کرنے، ان کے قائم کردہ ایمان اور اقدار کی حفاظت کرنے اور ان پیغامات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے میں مضمر ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر میرواعظ نے عوام پر زور دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ، قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنائیں، اپنی اولاد کے ایمان کی حفاظت کریں اور ہر طرح کے چیلنجوں اور دباؤ کے باوجود حق، صداقت اور راست بازی پر ثابت قدم رہیں۔

Popular Categories

spot_imgspot_img