ایشین میل نیوزڈیسک
سرینگر:حکومتِ جموں و کشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ بد سلوکی کے طرزِ عمل کے ایک معاملے کی تحقیقات کے لیے سینئر آئی اے ایس افسر مندیپ کور کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔جبکہ قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے معاملے کی نسبت وائرل ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا ہے۔
انکوائری کے لیے افسر مقرر :ادھرحکومتِ جموں و کشمیر کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے غیر پارلیمانی طرزِ عمل کے ایک معاملے کی تحقیقات کے لیے سینئر آئی اے ایس افسر مندیپ کور کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔اس سلسلے میں جاری سرکاری حکم نامہ نمبر(1654-JK (GAD) Of 2026کے مطابق، مندیپ کور، آئی اے ایس (اے جی ایم یو ٹی کیڈر، 2004)، جو اس وقت محکمہ ہاو¿سنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ میں کمشنر/سیکریٹری کے عہدے پر تعینات ہیں، معاملے کی تفصیلی انکوائری کریں گی۔
حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ انکوائری مسٹر کمار راجیو رنجن، آئی اے ایس (اے جی ایم یو ٹی کیڈر،2010)، ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری، محکمہ محنت و روزگار اور بینیش وانی، جے کے اے ایس، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ایمپلائمنٹ، گاندربل سے متعلق مبینہ بدسلوکی کے طرزِ عمل کے معاملے میں کی جائے گی، جس کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سامنے آئی ہیں۔سرکاری حکم کے مطابق انکوائری افسر کو حکم نامہ جاری ہونے کی تاریخ سے15 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مزید برآں، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکریٹری امیت ورمانی،( جے کے اے ایس) کو اس معاملے میں پریزنٹنگ افسر مقرر کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری اس حکم نامے پر 16 اکتوبر2026 کی تاریخ درج ہے۔ اب مقررہ انکوائری کے ذریعے معاملے کے مختلف پہلووں کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کی رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔
قومی کمیشن برائے خواتین نے ازخود نوٹس لیا،چیف سیکریٹری کو خط

قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے معاملے کی نسبت وائرل ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس میں مبینہ طور پر سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن کو ایک سرکاری جائزہ اجلاس کے دوران جونیئر خاتون افسر کے ساتھ بدزبانی کرتے، انہیں بے عزت کرتے اور دھمکیاں دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور (کے این او) کے مطابق، قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن وجے کشورراہتکر نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر ویڈیو کی تصدیق، غیر جانب دارانہ تحقیقات اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں مناسب تادیبی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیشن نے کام کی جگہ پر ہراسانی، متاثرہ خاتون افسر کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف پیشہ ورانہ انتقامی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ خاتون افسر کو تحفظ اور ضروری تعاون فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قومی کمیشن برائے خواتین نے متعلقہ حکام سے سات دن کے اندر کارروائی سے متعلق رپورٹ (اے ٹی آر) پیش کرنے کو کہا ہے۔کمیشن نے مزید کہا، ”ہر خاتون افسر محفوظ، باعزت اور وقار پر مبنی کام کی جگہ کی حق دار ہے۔ اختیارات کے ناجائز استعمال اور کام کی جگہ پر کسی کی تذلیل کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔“





