پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 29 ہو گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے 28 بچوں میں چھ لڑکیاں بھی شامل ہیں جبکہ تمام بچوں کی عمریں 13 سال سے کم ہیں۔ حکام کے مطابق ملبے تلے سے تمام لاشوں اور زخمیوں کو نکال کیا گیا ہے۔
پشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد رسکیو آپریشن مکمل، 29 لاشیں برآمد

ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک کا کہنا ہے کہ پشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 29 لاشیں ملی ہیں جن میں ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں۔
ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی طور پر عمارت گِرنے کے بعد 16 لاشوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے بعد چار سے پانچ گھنٹوں تک آپریشن جاری رہا اور اس کی تکمیل تک 29 لاشیں ملی ہیں۔ ان میں ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پہلے ہمیں اطلاع ملی کہ عمارت گِری ہے لیکن یہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ تین منزلہ عمارت ہے۔‘
’یہ تین منزلہ عمارت انسٹرکچرڈ تھی، یعنی یہ عمارت عارضی طور پر بنی ہوئی تھی۔۔۔ 45 زخمی ہیں جنھیں شدید چوٹیں آئی ہیں، انھیں صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں شفٹ کر دیا ہے۔‘
عارف خٹک کا کہنا ہے کہ اس ریکسیو آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی وہیکلز نے حصہ لیا۔

ریسکیو آپریشن مکمل، سکول کا مالک گرفتار
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت گِرنے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ملبہ اب بھی موجود ہے جبکہ پولیس کے بقول سکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی سی پی او پشاور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکول کا مالک ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر سکول چلا رہا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق کمزور عمارت بنائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ سکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد بتاتے ہیں کہ یہ سکول دو منزلہ عمارت میں قائم ہے جو کہ تیار شدہ چھتوں پر مبنی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ بظاہر اس عمارت میں پکا لینٹر نہیں بلکہ پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمارت کے ملبے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اوپر ایک کمرے پر چھت کا ملبہ گِرنے کے بعد نیچے بھی وہی ملبہ دوسری جماعت کے بچوں پر آ گرا۔





