خودمختاری کی قرارداد اور پاکستانی ایجنڈا نا قابل ِ قبول: اپوزیشن لیڈرسنیل شرما
شوکت ساحل
سری نگرجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کے روز کہا کہ اگرچہ حکمران اور اپوزیشن ارکان اسمبلی کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن جموں و کشمیر سے متعلق مسائل پر مثبت بحث کی ضرورت ہے۔ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہا کہ اپوزیشن کےلئے ہر چیز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے اور زور دیا کہ بی جے پی بھی تعمیری بحث چاہتی ہے، خاص طور پر ریاستی حیثیت کے معاملے پر۔سنیل شرما نے کہاکہ کبھی کبھی مشترکہ اتفاق رائے تک پہنچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہمیشہ اپوزیشن کی حمایت کریں۔ ہم بھی یہاں مثبت بحث چاہتے ہیں، خاص طور پر جب بات ریاست کی ہو۔تاہم، انہوں نے قرارداد میں استعمال ہونے والی زبان اور حوالوں، خاص طور پر1953 سے قبل کی آئینی حیثیت سے متعلق نکات پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہندوستان کے آئینی ڈھانچے کے اندر بی جے پی کے لیے یہ ناقابلِ قبول ہیں۔سنیل شرما نے 2000 کی خودمختاری کی قرارداد کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جب اسے اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا تو بی جے پی نے اسے مسترد کر دیا تھا؛ انہوں نے موجودہ ریاستی حیثیت کی قرارداد میں اس کے حوالے پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین سیکولرازم پر مبنی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ قرارداد میں شامل حوالے ان کی پارٹی کو قبول نہیں ہیں۔اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے کہاکہ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی پر بحث میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے لیکن بحث میں آرٹیکل 370 اور 2000 کی خودمختاری کی قرارداد کو شامل کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔ایوان کی کارروائی کے بعد سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں پاکستان کے کسی بھی ایجنڈے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور زور دے کر کہا کہ مرکز کے زیر انتظام خطہ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے پرعزم ہے، تاہم وہ2000 کی خودمختاری سے متعلق قرارداد اور 2024 کی خصوصی حیثیت سے متعلق قرارداد کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔انہوں نے کہا، ”جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ یہاں پاکستان کے کسی ایجنڈے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“
قائد حزبِ اختلاف نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی تک محدود ہو تو بی جے پی اس کی حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا، ”اگر وزیراعلیٰ صرف ریاستی حیثیت کی قرارداد پیش کرتے ہیں تو ہم اس کی حمایت کریں گے۔ ریاستی حیثیت بی جے پی کا ایجنڈا ہے اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ بحال ہوگی۔“انہوں نے 2000 اور2024 کی قراردادوں کے حوالوں پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ان میں جموں و کشمیر کی 1953 سے قبل کی آئینی حیثیت سے متعلق معاملات اٹھائے گئے ہیں۔انہوں نے کہا، ”قرارداد وزیراعلیٰ نے پیش کی ہے۔ اگر یہ صرف ریاستی حیثیت کے لیے ہوتی تو ہم اس میں حصہ لیتے۔ لیکن 2000 اور2024 کے حوالوں سے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔“
کانگریس پر تنقید
کانگریس کے بارے میں قائد حزبِ اختلاف نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران پارٹی کا موقف واضح ہو گیا ہے اور انہوں نے سابق ریاست سے متعلق خصوصی آئینی دفعات کے حوالے سے اس کے موقف پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا، ”آج کانگریس بے نقاب ہو گئی ہے اور اسے ملک کو جواب دینا ہوگا۔ کیا وہ1953 سے پہلے کی صورتحال، آرٹیکل 370 اور 35(اے) چاہتی ہے؟ انہیں جواب دینا چاہیے اور ان کے رہنماو¿ں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔“قائد حزبِ اختلاف نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس ایسے معاملات کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں جو جموں و کشمیر کے امن کو متاثر کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ”ایسا نہیں ہے کہ اپوزیشن ہر چیز کی مخالفت کرے گی۔ جموں و کشمیر ایک حساس ریاست ہے اور ہمارے ایسے ہمسایے ہیں جو ہمیشہ معاملات سے فائدہ اٹھانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں صورتحال پ±رامن ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی اب بھی زیرِ التوا مطالبہ ہے۔انہوں نے کہا، ”آج صورتحال پ±رامن ہے اور صرف ریاستی حیثیت کی کمی ہے۔ بی جے پی حکومت کے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔“
اسپیکر پر بھی تنقید
قائد حزبِ اختلاف نے قرارداد پر بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود اسے ایوان میں پیش کرنے کی اجازت دینے پر اسپیکر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارٹی نے اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک پیش کی ہے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کی مدت پر سوال
ریاستی حیثیت بحال کرنے کی مدت کے بارے میں شرما نے کہا کہ وزیراعلیٰ اس کے لیے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا، ”وزیراعلیٰ کون ہوتے ہیں کہ وہ کوئی مدت مقرر کریں؟ ریاستی حیثیت دی جائے گی اور ہم اس کے لیے پرعزم ہیں۔ معاملات پر عجلت میں بحث نہیں کی جانی چاہیے۔“شرما نے مزید کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر بھر میں اس قرارداد کے خلاف احتجاج کرے گی، کیونکہ پارٹی کے مطابق یہ 1953 سے قبل کے دور سے متعلق معاملات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔




